Homeتازہ ترینذیابیطس کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟

ذیابیطس کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟

ذیابیطس کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟

ذیابیطس کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟

لاہور: (سنو نیوز) شوگر یا ذیابیطس کا مرض دنیا میں اور ہمارے خطے میں اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ہر دوسرا شخص اس میں مبتلا نظر آ رہا ہے۔

انٹرنیشنل ہیلتھ ایسوسی ایشن کے اعدادوشمار کے مطابق ذیابیطس میں مبتلا افراد کی تعداد 1980 ء میں 108 ملین سے بڑھ کر 2014 ء میں 422 ملین ہو گئی تھی اور دنیا میں ساڑھے آٹھ فیصد لوگ ذیابیطس کا شکار ہیں۔

برطانیہ میں، 45-54 سال کی عمر کے دس میں سے ایک شخص کو ذیابیطس ہے، اور 75 سال سے زیادہ عمر کے چار میں سے تقریباً ایک شخص کو یہ بیماری ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے ترقی پذیر ممالک میں یہ بیماری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ذیابیطس کا مرض آنکھوں کی کمزوری ، ہارٹ اٹیک، گردوں کی خرابی، فالج ودیگر بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔

ذیابیطس کا مرض کیوں ہوتا ہے؟

لبلبہ جنین پیٹ کے پچھلے حصے میں واقع ہوتا ہے، جو دیگر خامروں اور ہارمونز کے ساتھ انسولین پیدا کرتا ہے۔ ہاضمے کے بعد انسانی خوراک کا زیادہ تر حصہ آنتوں میں شوگر میں تبدیل ہو جاتا ہے جس میں سے زیادہ تر گلوکوز کی صورت میں خون میں جذب ہو جاتا ہے اور جسم کے خلیے انسولین کو توانائی کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

اگر یہ اہم ہارمون یعنی انسولین نہیں بنتی یا کام نہیں کرتی تو جسم گلوکوز کو توانائی کے لیے استعمال نہیں کرسکتا اور خون میں اس کی سطح بڑھ جاتی ہے جسے ذیابیطس یا شوگر کی بیماری کہتے ہیں۔

عام طور پر ذیابیطس کی دو قسمیں ہیں، جنہیں پہلی اور دوسری یا (ٹائپ 1) اور (ٹائپ 2) ذیابیطس کہا جاتا ہے۔ ذیابیطس والے تقریباً 10 فیصد لوگوں کو ٹائپ 1 اور 90 فیصد کو ٹائپ 2 ذیابیطس ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈاکٹروں نے ذیابیطس سے چھٹکارا پانے کا آسان حل تلاش کرلیا

بعض مائیں حمل کے دوران ہائی بلڈ شوگر کا شکار ہوتی ہیں، جسے حمل کی ذیابیطس یا (جسٹیشنل ذیابیطس) کہا جاتا ہے، جو ڈیلیوری کے بعد معمول پر آجاتی ہے، لیکن ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس ہونے کا خطرہ عام آبادی کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

ٹائپ 1 ذیابیطس:

اس قسم کی ذیابیطس بچوں اور نوعمروں میں ہوتی ہے۔ یہ ایک آٹو امیون بیماری ہے جس میں انسانی جسم لبلبے کے ان خلیات کے خلاف اینٹی باڈیز بناتا ہے جو انسولین بناتے ہیں اور اسے تباہ کر دیتے ہیں، اس لیے جسم میں انسولین نہیں بن پاتی جو ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری ہے۔

ذیابیطس کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو خون میں شوگر زیادہ ہونے سے جسم میں پانی کی شدید کمی ہو جاتی ہے، خون تیزابیت کا شکار ہو جاتا ہے جسے ‘ڈائیبیٹک کیٹو ایسڈوسس’ کہا جاتا ہے، انسان کومے میں چلا جاتا ہے اور اس کی موت کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ٹائپ 2 ذیابیطس:

ذیابیطس کی یہ عام بیماری عام طور پر بالغوں میں ہوتی ہے، لیکن نوعمروں میں بھی کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ یہ انسولین کی کمی یا اس کے خلاف جسم کی مزاحمت یا دونوں کی وجہ سے بھی ہوتی ہے، اس لیے اس کے علاج کے لیے ایسی دوائیں اور گولیاں دی جاتی ہیں جو انسولین کی پیداوار اور جسم کی مزاحمت کو بڑھاتی ہیں، حساسیت کو کم کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ذیابیطس کے مریض یہ 4 پھل ضرور کھائیں، شوگر کنٹرول میں رہے گی

بہت سے لوگ سالوں سے ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا ہوتے ہیں، لیکن اس کی تشخیص نہیں ہو پاتی ،اس سے جسم کے اعضاء میں مسائل پیدا ہوتے ہیں کیونکہ لبلبہ پھر بھی کچھ انسولین بنا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی کو ذیابیطس کی علامات ظاہر ہوں تو وہ ڈاکٹر سے رجوع کرے تاکہ اس مرض کی بروقت تشخیص ہوسکے اور جسم کے مختلف حصوں پر اس کے برے اثرات کو روکا جاسکے۔

ذیابیطس کی علامات کیا ہیں؟

زیادہ پیاس لگنا۔

تھکاوٹ محسوس کرنا۔

وزن میں کمی۔

یہ بھی پڑھیں:ادرک ذیابیطس کے مریضوں کے لیے دوا، خوراک میں ضرور شامل کریں

خارش اور فنگل انفیکشن۔

زخم مندمل نہیں ہوتے:

دھندلا پن

ذیابیطس کی تشخیص کیسے کی جا سکتی ہے؟

عام حالت میں خالی پاخانہ میں شوگر نہیں نکلتی لیکن اگر خون میں لیول بڑھ جائے تو پیشاب کا سادہ ٹیسٹ یا معائنہ کیا جا سکتا ہے ۔ خون میں HBA1C نامی مادے کی سطح کو بھی تشخیص کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

ماہرین ذیابیطس کے مریضوں کو اپنی خوراک میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ذیابیطس کے علاج میں مناسب خوراک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وزن میں کمی، جسمانی سرگرمی اور ورزش علاج میں اہم ہیں اور طویل مدتی خطرات کو کم کرتے ہیں۔

بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے سے جسم پر منفی اثرات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ٹائپ 2 ذیابیطس والے کچھ لوگ صرف ان طریقوں سے اپنی شوگر کو کنٹرول کر سکتے ہیں، لیکن دوسروں کو گولیوں یا انسولین کی ضرورت ہوتی ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کو اپنے ڈاکٹر سے رابطے میں رہنا چاہیے اور اپنے دل، آنکھوں، پاؤں اور ٹانگوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

Share With:
Rate This Article