12 April 2024

Homeتازہ ترینغزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر کارروائیاں شروع : اسرائیل کا دعویٰ

غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر کارروائیاں شروع : اسرائیل کا دعویٰ

غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر چھاپے: اسرائیل کا دعویٰ

غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر کارروائیاں شروع : اسرائیل کا دعویٰ

غزہ: (سنو نیوز) اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے غزہ کے علاقے میں چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ جبکہ ایسی معلومات اکٹھی کی ہیں، جن سے ان مقامات کی نشاندہی میں مدد ملے گی جہاں یرغمالیوں کو رکھا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اسرائیلی فوج نے لکھا ہے کہ وہ حماس کے ٹھکانوں اور ان کے ٹینک شکن لانچروں پر مسلسل حملے کر رہی ہے۔

لبنان میں روئٹرز کا صحافی میزائل حملے میں مارا گیا:

جنوبی لبنان میں میزائل حملے میں خبر رساں ایجنسی روئٹرز کا ایک ویڈیو صحافی ہلاک ہو گیا ہے۔ عصام عبداللہ نامی اس صحافی کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ چھ اور صحافی زخمی بھی ہوئے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق الجزیرہ، اے ایف پی اور روئٹرز کے صحافی اسرائیل کی سرحد سے متصل لبنان کے جنوبی علاقے میں کام کر رہے تھے۔ اس وقت حزب اللہ اور اسرائیل سرحد پر ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں۔ لبنانی وزیراعظم نجیب میقاتی اور حزب اللہ نے اس حادثے کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔ تاہم اسرائیل کی دفاعی افواج نے فوری طور پر اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

اقوام متحدہ میں اسرائیلی ایلچی گیلارڈ اردن نے کہا ہے کہ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا مقصد کسی صحافی کو اپنا کام کرنے کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔‘‘ لیکن آپ جانتے ہیں کہ ایسے حادثات جنگی حالات میں بھی ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس معاملے کی تحقیقات کرے گا۔ روئٹرز نے بھی ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ عصام عبداللہ براڈکاسٹروں کو لائیو ویڈیو سگنل فراہم کرتے ہوئے ہلاک ہوئے۔ ان کا کیمرا پہاڑیوں کی طرف تھا لیکن ایک بڑے دھماکے نے اس کے کیمرے کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہاں دھول کا ایک بڑا بادل نظر آیا اور پھر چیخنے کی آواز سنائی دی۔

اسرائیل کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ‘اڈوں’ پر حملہ:

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملہ کیا اور حیفہ سے ملحقہ علاقے میں دو اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ لبنان کی سرحد سے متصل علاقہ ہے۔ لبنان میں گذشتہ چند دنوں کے دوران اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان راکٹ داغے گئے ہیں۔ امریکا، برطانیہ اور دیگر ممالک حزب اللہ کو حماس کی طرح ایک انتہا پسند تنظیم سمجھتے ہیں۔

لبنان میں حزب اللہ کی نمایاں سیاسی اور فوجی موجودگی ہے۔ اسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔ اقتدار میں نہ ہونے کے باوجود حزب اللہ لبنان میں بہت طاقتور سمجھی جاتی ہے۔ 2006ء میں اس نے اسرائیل کے ساتھ بہت بڑی جنگ لڑی جس میں اس کے 1200 لوگ مارے گئے تھے۔

غزہ میں یرغمالیوں کی لاشیں برآمد کر لیں: اسرائیلی اخبارات کا دعویٰ

اسرائیلی فوج نے جمعہ کو غزہ میں اپنے زمینی حملے کے دوران کچھ اسرائیلی شہریوں کی لاشیں برآمد کی ہیں۔ اسرائیلی اخبارات نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ لاشیں ان لوگوں کی ہیں جنہیں حماس نے یرغمال بنایا تھا۔

اسرائیلی اخبارات ‘Haaretz’ اور ‘Jerusalem Post’ نے اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے حوالے سے بتایا ہے کہ فوج کو کئی نامعلوم لاشیں ملی ہیں۔ انہیں اسرائیلی علاقے میں لایا جا رہا ہے۔ یرغمال بنائے گئے ان افراد کا کچھ سامان بھی غائب ہے۔

‘یروشلم پوسٹ’ نے لکھا ہے کہ جمعہ کو شروع ہونے والے حماس کے ٹھکانوں پر چھاپوں میں اسرائیلی پیدل فوج اور مسلح یونٹوں نے حصہ لیا۔ حماس کے ٹھکانے پر حملے کے دوران اسرائیلی علاقے پر ٹینک شکن میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔

لوگوں کو شمالی غزہ خالی کرنے کے لیے چھ گھنٹے کا وقت:

اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں رہنے والے عام لوگوں سے کہا ہے کہ وہ شام چار بجے تک علاقہ خالی کر دیں۔ ترجمان کے مطابق شمالی غزہ میں رہنے والے لوگوں کو دو راستوں سے جنوب کی طرف جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے زمینی حملے شروع کیے جانے کے بعد غزہ میں رہنے والے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ جنوب کی طرف بڑھ جائیں۔ دریں اثنا، یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کے شمالی غزہ سے انخلاء کے حکم پر عمل درآمد کرنا “ناممکن” ہے۔

اسرائیل کی جانب سے زمینی حملوں کے اعلان کے بعد جمعہ سے ہزاروں افراد نے غزہ کے جنوبی علاقوں کی طرف بڑھنا شروع کر دیا ہے۔ بوریل نے کہا، “تصور کریں کہ آپ غزہ جیسی صورتحال میں 24 گھنٹوں کے اندر دس ​​لاکھ سے زیادہ لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہے ہیں۔ اس سے صرف ایک انسانی بحران پیدا ہو گا۔”

حماس کے حملے میں کس ملک کے کتنے شہری مارے گئے؟

گذشتہ ہفتے اسرائیل پر کیے گئے حملے میں اب تک 1300 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اس حملے میں ہلاک ہونے والے 100 سے زائد غیر ملکیوں کی فہرست تیار کی ہے۔ حملے کے بعد لاپتہ یا یرغمال بنائے گئے غیر ملکیوں کی تعداد بھی اس فہرست میں شامل کر دی گئی ہے۔

امریکا: 27 اموات

تھائی لینڈ: 24 اموات

فرانس: 15 اموات

نیپال: 10 اموات

ارجنٹائن: 7 اموات

یوکرین: 7 اموات

روس: 4 اموات

برطانیہ: 4 اموات

چلی: 4 اموات

آسٹریا: 3 اموات

بیلا روس: 3 اموات

فلپائن: 3 اموات

برازیل: 3 اموات

پیرو: 2 اموات

رومانیہ: 2 اموات

آسٹریلیا، آذربائیجان، کمبوڈیا، آئرلینڈ، پرتگال، سپین، سوئٹزرلینڈ، کولمبیا  اور پیراگوئے سے تعلق رکھنے والے شہریوں میں سے ایک، ایک موت ہوئی ہے جبکہ جرمنی اور میکسیکو کے بہت سے لوگوں کو یرغمال بنا لیا گیا۔ اس کے علاوہ اٹلی، پیراگوئے، سری لنکا اور تنزانیہ کے بہت سے افراد لاپتہ ہیں۔

Share With:
Rate This Article