19 April 2024

Homecolumnکارکردگی ہار گئی، جھوٹ جیت گیا

کارکردگی ہار گئی، جھوٹ جیت گیا

columnist Shehryar Khan

کارکردگی ہار گئی، جھوٹ جیت گیا

تحریر: شہریار خان

الیکشن نتائج دیکھنے کے بعد اور پھر اس کے بعد حکومت سازی کے لیے ہونے والے سیاسی جماعتوں کے اجلاس، ان کی اندرونی کہانیاں اور وزیر اعظم کے فیصلے کا اعلان دیکھ کر کچھ لوگوں کو خوشی تو کچھ کو انتہائی مایوسی ہوئی ہے۔ کہیں جشن تو کہیں ماتم کا سماں ہے۔

کچھ اس بات پر خوش ہیں کہ انہوں نے نواز شریف کو چوتھی مرتبہ وزیر اعظم نہ بننے دینے کا اپنا وعدہ پورا کیا۔ کچھ یہ کہتے ہیں کہ نواز شریف کے وزیر اعظم نہ بننے سے ان کی سیاست کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ کچھ پارٹی کارکنان اور عہدیداران نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرنا شروع کر دیا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جمہوریت میں تمام شہری اس معاملہ میں آزاد ہونے چاہئیں کہ وہ کس جماعت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، کسی ووٹ دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود کبھی کبھی میں بھی حسن نثار کی طرح سوچتا ہوں کہ پی ٹی آئی کے چاہنے والے آخر کس بنیاد پر عمران اور اس کی پارٹی کو ووٹ اور سپورٹ کرتے ہیں؟

ایسا کیا ہے جو عمران خان نے کیا؟ آپ جب یہ سوال پی ٹی آئی کے چاہنے والوں کے سامنے رکھیں تو ان کا پہلا جواب ہوتا ہے کہ اس نے پاکستان کے لیے پہلا ورلڈ کپ جیتا تھا۔ تو مجھے پوری دنیا میں ایسا کوئی کھلاڑی دکھائی نہیں دیتا جسے ورلڈ کپ جیتنے پر وزیر اعظم کا عہدہ دے دیا جائے۔

دوسرا جواب کینسر ہسپتال کا ہوتا ہے کہ کپتان نے شوکت خانم بنایا۔ تو بھائی اس طرح تو عبد الستار ایدھی مرحوم کو کافی عرصے پہلے حکومت سنبھالنی چاہیے تھی لیکن انہوں نے کبھی حکومتی معاملات میں مداخلت کی نہ کبھی سیاسی گفتگو کی۔

تیسری بات جو پی ٹی آئی کے دوست کرتے ہیں کہ وہ ایماندار ہے اور کرپٹ نہیں ہے تو ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ یہ کہتی ہے کہ کپتان صاحب کے دور میں پاکستان کرپشن انڈیکس میں مزید اوپر چلا گیا تھا، یعنی ان کے دور میں کرپشن میں اضافہ ہوا۔ خود 190ملین پاؤنڈ کیس ہی ان کی ایمانداری پہ پانی پھیرنے کے لیے کافی تھا۔

اور یہ ثابت کرتا تھا کہ وہ صرف ڈائری لے کر پی ایم ہاؤس سے نہیں نکلے تھے بلکہ اس ڈائری میں ان کے اثاثوں میں ہونے والے اضافے کی تفصیلات بھی تھیں۔ کسی کو شک ہو تو وہ عمران خان کے وزیراعظم بننے سے پہلے اور بعد کے اثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں خود ان کے اپنے جمع کروائے ہوئے اثاثوں سے چیک کر سکتا ہے۔

توشہ خانہ کی گھڑی کے پیسے کی کہانی پہ بھی لوگ یقین کر لیتے ہیں جبکہ جس دکان کی رسید کپتان نے جمع کروائی تھی وہ جعلی ثابت ہو چکی، عرب امارات میں جس بزنس مین نے وہ گھڑی خریدی اس کا بیان سامنے آ چکا کہ اس نے اٹھائیس کروڑ کی گھڑی خریدی جبکہ اسے دو کروڑ میں فروخت کر کے اس میں سے ایک کروڑ قومی خزانہ میں جمع کروانے کی منی ٹریل چیک کر کے با آسانی کوئی بھی ذی شعور اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ ثاقب نثار کا جاری کردہ صادق و امین کا سرٹیفکیٹ جعلی تھا۔

یہ بھی پڑھیں:

سی آر شمسی کے بعد پرویز شوکت بھی

لوگ کہتے ہیں کہ اس نے ہیلتھ کارڈ دیا، یہ منصوبہ نواز شریف کا 2016 ءمیں ملک کو دیا تھا۔ کہتے ہیں اس نے احساس پروگرام دیا۔ وہ احساس پروگرام درحقیقت پہلے ہی پیپلز پارٹی کا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام تھا جسے بعد میں نواز شریف کی حکومت نے بھی آگے بڑھایا۔ اس نے لنگر خانے کھولے مگر حقیقت میں وہ لنگر خانے سیلانی ٹرسٹ بہت پہلے سے چلا رہا تھا۔ پناہ گاہ سمیت اس کے تمام منصوبے عارضی اور کاسمیٹک تھے۔ اس نے تمام سیاسی زندگی میں نعرے لگائے کہ قرضہ لے لے کر سابق حکمرانوں نے ملکی معیشت تباہ کی، میں وزیر اعظم بنا تو قرضہ لینے کے بجائے خود کشی کرنا بہتر سمجھوں گا مگر ملکی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لیا اور افسوسناک بات یہ کہ ملک میں کوئی بھی ترقیاتی کام بھی نہیں کروایا۔

پنجاب میں میٹرو بس کے منصوبوں کو جنگلابس کہہ کہہ کر یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان میں اربوں روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔ اس کے بعد خود پشاور میں بی آر ٹی کا منصوبہ شروع کیا اور جتنی رقم لاہور، ملتان اور راولپنڈی کے میٹرو بس منصوبوں پر مجموعی طور پر خرچ ہوئی اس سے کہیں زیادہ رقم سے پشاور میں بی آر ٹی کا منصوبہ مکمل کرنے میں ناکام رہے۔ اس کی بھی تحقیقات نہ ہونے دیں۔

اس کے علاوہ بہت سی باتیں ہیں جن کا تذکرہ کر ہی دینا چاہیے تاکہ سند رہے۔ جیسے خیبر پختونخوا میں بی آر ٹی، مالم جبہ اراضی سکینڈل سمیت کئی ایسے کیسز ہیں جن پر کپتان صاحب نے ایکشن نہیں ہونے دیا، عدالتوں سے تحقیقات کے خلاف حکم امتناع لیتے رہے۔ یہ حکم امتناع کو برا سمجھتے تھے مگر ممنوعہ فنڈنگ کیس سمیت بہت سے کیسز پر التوا لیتے رہے۔ ان کا ڈپٹی اسپیکر پانچ سال حکم امتناع پر رکن قومی اسمبلی رہا۔

بہرحال، ان ساری باتوں کے ساتھ ساتھ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اس الیکشن میں بنیادی طور پر کارکردگی ہار گئی۔ جھوٹ اور سہانے سپنے جیت گئے۔ ایک جانب وہ تھا جس نے موٹر ویز بنائیں، سڑکیں بنائیں، پل بنائے، ہسپتال بنائے، تعلیمی ادارے بنائے، ملک کے مستقبل یعنی نوجوان نسل کو لیپ ٹاپ فراہم کیے۔ جس نے قطر سے سستی گیس کا طویل المدتی معاہدہ کروایا، اس منصوبے پر بھی کپتان اور اس کے کھلاڑی الزام لگاتے رہے۔

اور بعد میں حکومت میں آنے کے بعد اس سے دوگنا نرخوں پر گیس کے مختصر مدت کے معاہدے کیے۔جس نے ملک کی خاطر ایٹمی دھماکے کیے۔ ایک جھوٹ جو کپتان نے مزید بولا کہ امریکا نے اسے اقتدار سے نکالا اور اس نے اسے اپنی ملکی خود مختاری کے خلاف سمجھتے ہوئے اس کے خلاف ایبسولوٹلی ناٹ کا نعرہ لگایا، آج وہ امریکا اور اس کے اتحادی یورپ اور یو کے کپتان کی جماعت کے حق میں بیان دے رہی ہے جسے یہاں پی ٹی آئی والے شیئر کر رہے ہیں آج انہیں اپنا ایبسولوٹلی ناٹ کا نعرہ بھول گیا ہے۔ بہرحال جناب میں یہ سمجھتا ہوں کہ کارکردگی ہار گئی، جھوٹ جیت گیا۔

Share With:
Rate This Article