Homeتازہ ترینروپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید گراوٹ کا شکار

روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید گراوٹ کا شکار

dollar rate in Pakistan today open market is 281 dollar rate decrease 17 pasa

روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید گراوٹ کا شکار

کراچی:(سنو نیوز) انٹربینک میں آج بھی ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی ہے، امریکی ڈالر ٹریڈنگ کے آغاز پر 17 پیسے سستا ہوگیا ہے جس کے بعد انٹربینک میں ڈالر 281 روپے کا ہوگیا۔

پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر مثبت رجحان ریکھنے میں آیا ہے، 100 انڈیکس 149 پوائنٹس اضافے سے 64069 کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

گذشتہ روز انٹربینک میں ڈالر 22 پیسے سستا ہو گیا تھا، انٹربینک میں ڈالر 281 روپے کا ہوا، گذشتہ روز ڈالر 281 روپے 22 پیسے پر بند ہوا تھا۔

پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، 100 انڈیکس 64 پوائنٹس اضافے سے 64234 کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

واضح رہے کہ پانچ ستمبر کو ڈالر 307 کی بلند ترین سطح پر تھا، لیکن حکومتی اور سیکورٹی اداروں کے کریک ڈاؤن کے سبب اس کی قیمت مسلسل کم ہوئی اور اکتوبر میں یہ 277 پر آ گیا تھا۔

اس کے بعد قیمت میں کچھ اضافہ ہوا اور ڈالر 288 تک پہنچا تاہم نومبر کے وسط سے ڈالر کی قیمت میں کمی کا نیا رحجان برقرار ہے۔

مزید پڑھیں

سونے کی قیمت میں مزید کمی

خیال رہے کہ نئے سال کا پہلا کاروباری ہفتہ سٹاک مارکیٹ کیلئے منافع بخش رہا، 100 انڈیکس میں 2064 پوائنٹس کا بڑا اضافہ ہوا، نئے سال کے شروع میں انڈیکس 62,451 پر تھا۔

ہفتے کے اختتام پر انڈیکس 64,515 پر بند ہوا، رواں ہفتے سرمایہ کاروں نے ایک ارب ڈالر سے زائد منافع کمایا، مقامی کرنسی میں منافع کا حجم 311 روپے رہا، مجموعی حصص کی مالیت 9373 ارب روپے پر پہنچ گئی ۔

گذشتہ روز انٹرنیشنل مارکیٹ کی وجہ سے پاکستان کی لوکل مارکیٹس میں گولڈ کی قیمت میں دوبارہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے مالی سال 2023 کی معیشت پر سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے، سٹیٹ بینک حکام کے مطابق مالی سال 2023 غیر معمولی طور پر بحرانوں کا سال تھا، معاشی اصلاحات میں کمزوریوں سے مقامی اور بیرونی عوامل نے معیشت کو نقصان پہنچایا۔

گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ایک طرف مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی دوسری طرف معاشی سرگرمیاں سکڑ گئیں، تاریخ کے بدترین سیلاب سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی،عالمی مارکیٹ میں اجناس کی قیمتیں بڑھنے سے معاشی عدم استحکام پیدا ہوا، آئی ایم ایف کے نویں جائزے میں طویل تاخیر سے بیرونی ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ بڑھ گیا۔

Share With:
Rate This Article