12 April 2024

Homeتازہ ترینکیا لہسن، چقندر اور تربوز بلڈ پریشر کو نارمل رکھتے ہیں؟

کیا لہسن، چقندر اور تربوز بلڈ پریشر کو نارمل رکھتے ہیں؟

کیا لہسن، چقندر اور تربوز بلڈ پریشر کو نارمل رکھتا ہے؟

کیا لہسن، چقندر اور تربوز بلڈ پریشر کو نارمل رکھتے ہیں؟

لندن: (سنو نیوز) برطانوی ڈاکٹر کرس وان ٹولیپکن نے ان دعوؤں کی سچائی کا تجربہ کیا کہ کیا چقندر، لہسن اور تربوز کھانے سے واقعی بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے۔ آخر حقیقت کیا ہے؟

ہائی بلڈ پریشر دل کی بیماریوں کے مریضوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ برطانیہ میں اس بیماری کی وجہ سے سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔ اگر ان تین چیزوں کے حوالے سے کیے جانے والے دعوے سچے ہیں تو یہ کھانے پینے کی اشیا بہت بڑی ‘لائف سیور’ ثابت ہو سکتی ہیں۔

بی بی سی میں شائع رپورٹ کے مطابق کنگز کالج لندن کے ڈاکٹر اینڈی ویب بھی ان اشیائے خورونوش سے متعلق دعوئوں کی صداقت کو جانچنے کے لیے ایک بڑے پیمانے پر تجربہ کر رہے ہیں۔ اس نے سمجھنے کی کوشش کی کہ ان کا اصل میں کیا اثر ہے؟

یہ تجربہ کیسے کیا گیا؟

اس تجربے میں بلڈ پریشر کے مسئلے میں مبتلا کل 28 رضاکاروں کا انتخاب کیا گیا۔ ان سب کا زیادہ سے زیادہ بلڈ پریشر 130 ملی میٹر سے زیادہ تھا، جب کہ ایک بالغ شخص میں یہ 120 ہونا چاہیے۔ ان تمام رضاکاروں کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔

پہلے ہفتے کے لیے، ‘گروپ 1’ کے رضاکاروں کو ہر روز کھانے کے لیے لہسن کے دوٹکڑےدیے گئے۔ ‘گروپ 2’ کو روزانہ تربوز کے دو بڑے ٹکڑے کھلائے جاتے تھے۔ جبکہ ‘گروپ 3’ کے ہر ممبر کو روزانہ کھانے کے لیے دو چقندر دیے جاتے تھے۔ دوسرے اور تیسرے ہفتے میں، ہر گروپ کے لیے کھانے پینے کی اشیاء کا تبادلہ کیا گیا۔ اس طرح تین ہفتوں کے دوران ہر گروپ کے تمام رضاکاروں نے تینوں چیزیں کھائیں۔

لہسن، چقندر اور تربوز میں کیا خاص بات ہے؟

ہم میڈیا میں ‘سپر فوڈز’ کی اصطلاح پر زیادہ توجہ نہیں دیتے، لیکن یہ سچ ہے کہ کھانے کی بہت سی اشیاء ہمارے جسم پر بہت مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔ اس لیے ہم نے ان تین چیزوں کا تجربہ کیا، جن کے استعمال سے بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے۔ ان کے کام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہماری خون کی نالیوں کو چوڑا کرتے ہیں، جس سے ہمارا خون آسانی سے رواں رہتاہے۔ لیکن ان تینوں چیزوں کا اثر ایک جیسا نہیں ہے۔

ہر رضاکار کا بلڈ پریشر دن میں دو بار صبح اور شام میں ناپا گیا۔ ہر بار تین ڈیٹا لیے گئے اور ان کی اوسط کا حساب لگایا گیا۔ اس کے بعد ان تینوں کھانے کے اثرات کو جاننا ممکن ہوا۔ ان اعداد و شمار سے یہ معلوم کرنا ممکن تھا کہ کھانے کی کونسی چیز سب سے زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے۔

اس تجربے کے دوران جب گروپ کے تمام افراد نارمل زندگی گزار رہے تھے تو ان کا اوسط بلڈ پریشر 133.6 ملی میٹر پایا گیا۔ چقندر کھانے والے گروپ کا اوسط بلڈ پریشر 128.7 ملی میٹر جبکہ لہسن کھانے والوں کا بلڈ پریشر 129.3 ملی میٹر تھا۔

اس چھوٹے گروپ پر کیے جانے والے تجربے کے اعداد و شمار ڈاکٹر ویب اور دیگر کے ذریعے کیے گئے ایک بڑے مطالعے کے نتائج سے مماثل ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماری کے درمیان تعلق پر کی گئی یہ تحقیق بتا رہی تھی کہ اگر بلڈ پریشر میں یہ کمی جاری رہی تو فالج اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ 10 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔

تربوز کا اتنا بڑا اثر نہیں ہوا۔ جس کی وجہ سے بلڈ پریشر کی زیادہ سے زیادہ حد صرف 129.8 ملی میٹر تک پہنچ سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تربوز زیادہ تر پانی پر مشتمل ہوتا ہے اور اس میں فعال عناصر کی کمی ہوتی ہے۔

ہمیں تجربے سے کیا ملا؟

ہمارا یہ چھوٹا سا مطالعہ بتاتا ہے کہ چقندر اور لہسن کو باقاعدگی سے کھانے سے ہمیں بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن یہ صرف ان دو چیزوں کو کھانے سے نہیں ہوتا۔ نائٹریٹ، جو بنیادی طور پر چقندر میں پایا جاتا ہے، مثال کے طور پر بہت سی ہری سبزیوں، اس کے علاوہ اجوائن، گوبھی، واٹر کریس، ارگولا، پالک اور بروکولی وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ لہسن میں بنیادی طور پر ایلیسن ہوتا ہے جو کہ پیاز اور اس جیسی دیگر اقسام میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔

اس ٹیسٹ سے ہمیں معلوم ہوا کہ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو ہمارے بلڈ پریشر کو کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ لیکن ان کے اثرات کتنے موثر ہوں گے اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ہم انہیں کس طرح استعمال کرتے ہیں۔

لہسن کا استعمال کیسے کریں؟

لہسن کو اچھی طرح پیس لیں یا اسے جتنا ممکن ہو سکے باریک ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ آپ اسے جتنی اچھی طرح سے پیس لیں یا کاٹیں گے، اتنا ہی اس سے ایلیسن نکلے گا۔ لہسن کو پیسنے یا کاٹنے کے بعد جلد از جلد استعمال کریں۔ آپ اسے کھانے کے لیے تیار کردہ سوپ یا سبزیوں میں شامل کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔

جیسے ہی آپ تازہ لہسن کو پیستے یا کاٹتے ہیں، اس میں موجود ایلیسن تیزی سے خراب ہونے لگتا ہے۔ لہسن کو مائکروویو میں نہ ڈالیں۔ ایلیسن شعلے پر بہت تیزی سے کم ہو جاتا ہے، لیکن یہ مائکروویو میں مکمل طور پر تباہ ہو جاتا ہے۔

انتباہ : لہسن کا زیادہ استعمال صحت کے لیے اچھا نہیں ہے۔ بہت زیادہ لہسن کھانے سے جلن کا احساس اور خراب ہاضمہ ہو سکتا ہے۔

بہت سے لوگ اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لا کر صرف چند ہفتوں میں اپنے ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ مریضوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ:

انہیں جسمانی طور پر متحرک رہنا چاہیے۔

اپنی کھانے کی عادات اچھی رکھیں۔ کم چکنائی والی غذا کھائیں، کھانے میں تمام عناصر کا توازن ہونا چاہیے، سبزیاں اور سبزیاں وافر مقدار میں لیں۔

شراب اور سگریٹ نوشی سے جتنا ممکن ہو دور رہیں۔

اپنا وزن کنٹرول میں رکھیں۔

روزانہ 6 گرام سے زیادہ نمک نہ کھائیں۔

کافی، چائے اور ٹھنڈے مشروبات کو کم سے کم تک محدود رکھیں۔

روزانہ چار کپ سے زیادہ کافی پینے سے بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

Share With:
Rate This Article