12 April 2024

Homeدنیااٹلی “بیلٹ اینڈ روڈ” معاہدے سے دستبردار

اٹلی “بیلٹ اینڈ روڈ” معاہدے سے دستبردار

اٹلی "بیلٹ اینڈ روڈ" معاہدے سے دستبردار

اٹلی “بیلٹ اینڈ روڈ” معاہدے سے دستبردار

روم: (سنو نیوز) اطالوی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ وہ چین کے “بیلٹ اینڈ روڈ” اقدام سے دستبردار ہو جائے گی۔ اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کی حکومت نے بیجنگ کو سال کے اختتام سے قبل بی آر آئی پروگرام میں اپنے ملک کی شرکت کے خاتمے سے آگاہ کر دیا ہے۔

یہ چین کے سب سے پرجوش تجارتی اور تعمیراتی منصوبوں میں سے ایک ہے، اور 2019 ء میں شامل ہونے والا واحد بڑا مغربی ملک اٹلی تھا۔ اس وقت اٹلی کے اس اقدام پر امریکا اور دیگر ممالک نے سخت تنقید کی تھی۔

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، جسے 2013 ء میں چینی صدر شی جن پنگ نے متعارف کرایا تھا، اس کا مقصد پورے ایشیا اور یورپ میں 1 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہے۔ اس منصوبے میں چین کو یورپ اور ایشیا کے دیگر حصوں سے جوڑنے کے مقصد کے ساتھ نئی ریلوے اور موجودہ ریلوے اور بندرگاہوں کی تعمیر وترقی شامل ہے۔

لیکن یہ پروگرام شروع سے ہی امریکی تنقید کا نشانہ رہا ہے جو اسے “قرض کے جال کی ڈپلومیسی” کی واضح مثال کے طور پر بیان کرتا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ چین کے منصوبوں میں ایسے بڑے منصوبے شامل ہیں جن کے لیے ممالک مالی اعانت نہیں کر سکتے، اس طرح بیجنگ کو چین کے مطالبات کو آگے بڑھانے کا فائدہ ملتا ہے۔

اٹلی یورپی یونین کے 18 ارکان میں سب سے بڑا ملک تھا، خاص طور پر براعظم کے مشرق اور جنوب میں، جس نے اس پروگرام میں حصہ لیا۔BRI میں ملک کی رکنیت کی اس سال مارچ میں خود بخود تجدید ہو جانی تھی، بشرطیکہ اٹلی سال کے آخر تک چین کو اپنے دستبرداری سے آگاہ نہ کر دے۔ میلونی نے اس سے قبل سابق حکومت کے پروگرام میں شامل ہونے کے فیصلے کو “ایک سنگین غلطی” قرار دیا تھا اور اشارہ کیا تھا کہ وہ اس سے دستبردار ہونے کے لیے مائل ہیں۔

لیکن ان کی حکومت نے زور دیا کہ اس فیصلے کے باوجود وہ چین کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اٹلی میں 20 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا صرف ایک حصہ جس کا شی جن پنگ نے 2019 ء میں وعدہ کیا تھا۔

چین کو اٹلی کی برآمدات گذشتہ سال 16.4 بلین یورو تھیں۔ 2019 میں یہ تعداد تقریباً 13 بلین یورو تھی۔ اس کے مقابلے میں اسی عرصے میں چین کی اٹلی کو برآمدات 31.7 بلین یورو سے بڑھ کر 57.5 بلین یورو ہو گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:

چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ

چین کا تجارتی حجم فرانس اور جرمنی کے ساتھ بہت زیادہ ہے۔ یورو زون کی سب سے بڑی معیشتیں جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے رکن نہیں ہیں۔ پچھلے سال اقتدار میں آنے کے بعد سے، میلونی نے اپنے پیشرو کے مقابلے میں مغرب اور نیٹو کے قریب تر پالیسی اپنائی ہے۔ اٹلی کا نیا فیصلہ جمعرات کو یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین اور مسٹر شی کے درمیان ہونے والی ملاقات سے پہلے آیا ہے۔

خیال رہے کہ روں سال جون میں ایک رپورٹ سامنے آئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ لاطینی امریکی نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لاطینی امریکی خطے میں چین کے ساتھ ” بیلٹ اینڈ روڈ” کی مشترکہ تعمیر کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ یا ہے۔

ارجنٹائن کے وزیر اقتصادیات سرجیو ماسا نے چین کا دورہ کیا جس کے دوران چین اور ارجنٹائن نے بیلٹ اینڈ روڈ کی مشترکہ تعمیر کو فروغ دینے کی منصوبہ بندی پر دستخط کئے۔ رپوررٹ کے مطا بق حالیہ دنوں نویں چین-لاطینی امریکہ اور کریبین ممالک کا بنیادی تنصیبات فورم مکاؤ میں ختم ہوا۔ شرکاء نے بیلٹ اینڈ روڈ کی اعلیٰ معیار کی مشترکہ تعمیر سمیت دیگر موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔

رپورٹ کے مطابق بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو بڑے پیمانے پر بنیادی تنصیبات اور تعاون کے نیٹ ورک کے ذریعے چین کو دنیا میں دیگر علاقوں سے جوڑتا ہے جن میں لاطینی امریکہ بھی شامل ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 21 لاطینی امریکی ممالک نے چین کے ساتھ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو کی مشترکہ تعمیر میں شرکت کی ہے۔

یہ انیشیٹیو لاطینی امریکا میں زیادہ سے زیادہ مقبول ہو رہا ہے کیونکہ اس کے تحت تعاون کی توسیع اور باہمی فائدہ مند نتائج حاصل کیے جا رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے عوام فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ابھی تک چین دس سالوں سے لاطینی امریکا کا دوسرا بڑا تجارتی شرکت دار رہا۔ 2022 میں چین اور لاطینی امریکہ کے درمیان تجارت کی کل مالیت 485.79 بلین ڈالرز تک پہنچ چکی ہے جو ایک تاریخی ریکارڈ بنا۔

اس سے ظاہر ہے کہ ” بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو” کی مشترکہ تعمیر کا سب سے براہ راست اثر فریقین کی تجارت کی مالیت کو بلند کرنا ہے ، یوں لاطینی امریکہ چینی معیشت کی ترقی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو کے کچھ منصوبے لاطینی امریکی ممالک کے دور دراز علاقوں میں قائم ہیں اور ان منصوبوں نے براہ راست مقامی ترقی اور روزگار کو فروغ دیا ہے اور عوام کی زندگی میں بہتری لائی ہے۔

اس انیشیٹیو نے لاطینی امریکی ممالک کو ترقی کا نیا محرک دیا اور ان کو خود ترقی کرنے کی صلاحیت دی ہے۔بہت سے لاطینی امریکی افراد کا خیال ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو ترقی کا نیا نظریہ اور راستہ فراہم کرتا ہے۔

رواں سال بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو کی دسویں سالگرہ ہے۔ چین اعلیٰ معیار کی ترقی کے ذریعے چینی طرز کی حامل جدیدیت کو فروغ دے رہا ہے، جو لاطینی امریکی ممالک سمیت دنیا بھر میں تمام ممالک کو مزید مواقع فراہم کرے گا۔

Share With:
Rate This Article