Homeتازہ ترینیمن نے اسرائیل کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا

یمن نے اسرائیل کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا

یمن کی عسکری تنظیم حوثی نے اسرائیل اور حماس کی جنگ میں شامل ہونے کا اعلان کردیا

یمن نے اسرائیل کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا

صنعا: (سنو نیوز) یمن کی عسکری تنظیم حوثی نے اسرائیل اور حماس کی جنگ میں شامل ہونے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل بھی داغے ہیں۔

یمن کے حوثی مشرق وسطیٰ کے میدان میں داخل ہو رہے ہیں، جس سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ پھیلنے کے خدشات کو مزید تقویت مل رہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یمنی حوثی باغیوں کی مسلح افواج کے ترجمان جنرل یحییٰ ساری نے اسرائیل کے خلاف باقاعدہ جنگ کا اعلان کر دیا۔

جنرل یحییٰ ساری نے جاری ایک بیان میں کہا کہ ہم نے فلسطین کے مقبوضہ علاقے میں صہیونی دشمن کے مختلف اہداف پر بڑی تعداد میں بیلسٹک اور کروز میزائل اور بڑی تعداد میں ڈرونز داغے ہیں اور اس طرح کے مزید حملے فلسطینیوں کی فتح میں مدد کرنے کے لیے کیے جائیں گے۔


حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ ساری نے کہا کہ تنازعہ کے آغاز کے بعد سے یہ حوثیوں کا اسرائیل پر تیسرا حملہ ہے، جس سے یہ تصدیق ہوتی ہے کہ 28 اکتوبر کو ہونے والے ڈرون حملے کے پیچھے ان کا ہاتھ تھا جس کے نتیجے میں مصر میں دھماکے ہوئے اور اسرائیل نے اس کا الزام حوثیوں پر لگایا اور ایک اکتوبر 19 واقعہ جس میں امریکی بحریہ نے تین کروز میزائلوں کو روکا۔

یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک اسرائیلی حکومت کی جارحیت بند نہیں ہوتی وہ میزائلوں اور ڈرونز سے مزید حملے جاری رکھیں گے۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے غزہ پر اب تک کا سب سے بھیانک حملہ کر کے جبالیہ پناہ گزین کیمپ کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ صیہونی فوج کی جارحیت میں شہداء کی مجموعی تعداد 8 ہزار 500 تجاوز کرگئی۔ جس میں 3 ہزار 542 بچے اور ایک ہزار 800 خواتین شامل ہیں۔

طاقت کے نشے میں چور اسرائیل نے خونریزی کی انتہا کر دی۔ گنجان آباد علاقوں پر بھاری بمباری کردی۔ صیہونی فورسز نے جبالیہ کیمپ کو 6 امریکی ساختہ بموں سے نشانہ بنایا، 6 ٹن بارودی مواد کے پھٹنے سے 20 عمارتیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔

غزہ کی پٹی کے انڈونیشین ہسپتال کے سامنے درجنوں میتیں سفید کفن میں لپٹی ہوئی رکھی ہیں جس کے بارے میں حماس کے زیرِ انتظام انکلیو میں صحت کے حکام نے کہا کہ فلسطینی پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملہ ہوا تھا۔

انہوں نے کہا اسرائیلی بمباری سے بری طرح زخمی ہونے والے مریضوں کے رش کی وجہ سے ہسپتال پہلے ہی جدوجہد کر رہا تھا تو طبی ماہرین نے راہداری میں ہی ایک آپریٹنگ روم قائم کر دیا کیونکہ مرکزی سرجیکل تھیٹر بھرے ہوئے تھے۔

Share With:
Rate This Article