پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما و اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی جانب سے چارٹر آف ڈیمانڈ اجلاس میں پیش کئے گئے۔ چارٹر آف ڈیمانڈ پر پی ٹی آئی مذکراتی کمیٹی کے 6 ممبران کے دسخط۔ موجود تھے۔
اپوزیشن لیڈر نے تحریری مطالبات کا ڈرافٹ اسپیکر قومی اسمبلی کے سامنے رکھ دیا۔ انہوں نے تحریری مطالبات کمیٹی اجلاس میں پڑھ کر سنائے جس میں 9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔ پی ٹی آئی نے اپنے مطالبے میں حکومت کو ٹائم فریم بھی دیا۔
ڈرافٹ کے متن میں کہا گیا کہ حکومت جوڈیشل کمیشن پر 7 روز میں فیصلہ کرے، جیلوں میں قید سیاسی رہنماؤں اور کارکنان کو رہا کیا جائے، 9 مئی اور 26 نومبر پر الگ الگ کمیشن بنائیں جائیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے چارٹر آف ڈیمانڈ میں کمیشن کے ٹی او آرز بھی تجویز کر دیئے۔ ڈرافٹ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی اور اتحادیوں نے اس تحریک میں خون دیا ہے، بانی چئیرمین اور ہمارے ہزاروں حامیوں کو بلا جواز قید کا سامنا کرنا پڑا۔
متن میں کہا گیا کہ پاکستانی عوام کے ووٹ کو پامال کیا گیا اور ان کی آواز بندی کی گئی، ہمارے شہداء کے خون نے اسلام آباد کی سڑکوں کو مقدس کیا ہے، ہم پاکستان کی محروم عوام کی آواز بن کر کھڑے ہیں، پاکستان کی عوام کو دبانے کی کوشش کی گئی مگر ناکامی ان کا مقد بنی۔
ڈرافٹ میں مزید کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے عوام کے حقوق کی جنگ کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا، پی ٹی آئی کے چارٹر آف ڈیمانڈ آئین کی بحالی، قانون کی حکمرانی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور آزاد منصفانہ انتخابات کی شرط کے طور پر پیش کیے ہیں۔