کراچی کے تاریخی گل پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے سانحے نے شہریوں کے ساتھ ساتھ پورے پاکستان کو افسردہ کردیا، ہفتے کے اختتام پر شعلوں میں گھری عمارت کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں تو سوشل میڈیا اور ٹی وی اسکرینز پر ہر طرف بے یقینی اور دکھ کی کیفیت چھا گئی۔


اداکارہ سجل علی نے گل پلازہ میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے نقصان کیلئے الفاظ ناکافی ہیں اور انکی دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں، اداکار و گلوکار

اداکارہ یشما گل اور فلم ساز عدنان ملک نے عمارت میں فائر سیفٹی اور حفاظتی نگرانی کے فقدان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، عدنان ملک نے بتایا کہ ایک ماہ قبل گل پلازہ کے دورے کے دوران ہی انہیں عمارت کا ڈیزائن گھٹن زدہ اور خطرناک محسوس ہوا تھا۔
اداکارہ منال خان نے گل پلازہ سے جڑی اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے سانحے پر افسوس کا اظہار کیا، منال خان نے کراچی کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا معاشی مرکز ہونے کے باوجود یہ شہر مسلسل نظر انداز ہورہا ہے، اداکارہ صبور علی نے بھی اس سانحے پر ردعمل دیتے ہوئے اللّٰہ سے رحم کی دعا کی اور کہا کہ یہ دکھ الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
گل پلازہ کا یہ سانحہ ایک بار پھر شہری عمارتوں میں حفاظتی اقدامات، فائر سیفٹی اور ذمہ داری کے سوالات کو نمایاں کر گیا ہے جس پر فوری توجہ اور موثر اقدامات ناگزیر قرار دیے جارہے ہیں۔