بھیکاری نہیں، مجبور ہوں میں

شہر کی روشنیوں کے بیچ، سڑک کے کنارے، پرانے کپڑوں میں لپٹا، تھکی ہوئی آنکھوں میں اُڑنے کے خواب اور چہرے پہ مسکراہٹ لیے معصوم ہاتھ پھیلائے بیٹھا ایک کم عمر بچہ، جہاں گزرتا ہوا ہر شخص اس کے ہاتھ میں سکے ڈالتا، اسے نہ تو گن سکتا، نہ سمجھ سکتا مگر دل سے محسوس کر رہا تھا جیسے یہ اُسے کل کی امید دے رہے ہوں۔ یہ افسانہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ پاکستان میں تقریباً 38 لاکھ سے زائد ایسے لوگ ہیں جو روزانہ اسی طرح زندگی کی بھوک، مشکلات اور امید کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ معاشرے میں ان کو بھیکاری کے نام سے پکارا جاتا ہے

پاکستان میں تقریباً ہر 5 میں سے 1 نوجوان بے روزگار ہے اور یہ تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ تعلیم یافتہ لوگ، ہنر مند لوگ، محنتی لوگ، سب ایک ہی خوفناک حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں. اسی بے روزگاری کے برعکس لوگ مجبوری کے عالم میں سڑکوں اور بازاروں میں ہاتھ پھیلائے بیٹھ جاتے ہیِں۔

شہر کی سڑکوں پر بیٹھے یہ لوگ صرف سکے نہیں مانگتے بلکہ وہ اپنے خاندان، بچوں کی پرورش، کھانے کے لیے دن بہ دن کی جدوجہد کی کہانی سناتے ہیں۔ ان کی تھکی ہوئی آنکھیں، ہاتھوں کی لرزش اور چہرے پر چھپی اداسی ہر گزرتے دن کی مشکلات کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ حقیقت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اگر معاشرے نے ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے ہوتے تو آج بھیک مانگنے پر مجبور نہ ہوتے۔

یہ منظر دل کو چیر کر رکھ دیتا ہے کہ آج کا نوجوان بے روزگار، خاندان کا سربراہ مجبور اور بچے سڑکوں پر بھوک سے تڑپ رہے۔

جو بچہ آج سڑک کنارے ہاتھ پھیلا رہا ہے، وہ کل ہمارے ملک کا مستقبل بنے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسے وہ وسائل، مواقع اور رہنمائی فراہم کریں گے جو اسے اپنا بہترین مستقبل بنانے کے قابل بنا سکیں؟

آج وہ بچہ بھیک مانگتے شرمندہ نہیں، اس کی صبح اسکول کی گھنٹی سے نہیں، گاڑیوں کے ہارن سے شروع ہوتی ہے۔ اس کا بچپن کھلونوں میں نہیں، سڑکوں کے شور میں دفن ہو جاتا ہے۔ وہ ڈاکٹر، استاد یا انجینئر بننے کا خواب اس لیے نہیں دیکھتا کیونکہ اس نے کبھی کسی کو بنتے دیکھا  نہیں۔ اس کے لیے سب سے بڑا خواب یہ ہوتا ہے کہ آج پیٹ بھر جائے، آج ماں پریشان نہ ہو، آج رات بھوکا نہ سونا پڑے۔

انہی حالات میں جب یہ بچہ  بڑا ہوگا، تو اس کے اندر جمع ہونے والا یہ درد اسے کمزور نہیں بلکہ تلخ  بنا دے گا۔ تعلیم نہ ملی، تحفظ نہ ملا، رہنمائی نہ ملی اور پھر ہم سوال کریں گے کہ یہ نوجوان ملک کیلئے چیلنج کیسے بنا؟