Homeپاکستانموسملاہور کی فضا میں اسموگ کا راج برقرار

لاہور کی فضا میں اسموگ کا راج برقرار

لاہور شہر میں اسموگ کا منظر

لاہور کی فضا میں اسموگ کا راج برقرار

لاہور:(سنونیوز)لاہور کی فضا میں اسموگ کا راج، آلودگی میں پاکستان کے ثقافتی دارالحکومت کی پہلی پوزیشن برقرار،صبح کے وقت ایر کوالٹی انڈیکس 441 ، شام کو 315 پر رہابھارت کا شہر دہلی دوسرے نمبر پر ہے۔

حکومتی دعوئوں کے باوجود سال دو 2016 میں شروع ہونے والی کہانی ختم ہونے کو نہیں آرہی،زہریلی گیسوں سے بھرپور اسموگ اب لاہور شہر میں پانچواں موسم بن گیا،صبح سویرے ہی شہر کی فضا میں کثافتوں سے بھری دھند کی چادر تن جاتی ہے اور سورج کی روشنی چھن چھن کر ہی آتی ہے۔

آج بھی صبح کے وقت لاہور شہر چار سو اکتالیس ایر کوالٹی انڈیکس کے ساتھ دنیا کا آلودہ ترین شہر رہا۔ماہرین ماحولیات کے مطابق اسموگ کی وجہ بھٹوں کی چمنیوں سے نکلنے والا دھواں، دھان کی فصل جلانے سے پیدا ہونے والی آلودگی ، بھارت سے آنے والا دھواں اور ٹرانسپورٹ کا دھواں شامل ہیں۔بھٹوں اور فصل جلانے والوں کے خلاف کاروائی کے باوجود بھی وسط اکتوبر سے صبح اور رات کو اسموگ کا راج رہتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت کے ساتھ ساتھ عوام بھی ماحول دشمن سرگرمیوں کے خاتمے میں اپنا کردار ادا نہیں کرتی تب تک پانچواں موسم ہر سال جان کو آتا رہے گا۔دوسری جانب کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا کی ہدایات پر صوبے بھر میں انسداد سموگ کاروائیاں کی گئی، تین دنوں میں دھواں چھوڑنے والی 517 گاڑیوں کیخلاف کاروائی کی گئی جس کے نتیجے میں تقریبا 12لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا۔

کمشنر لاہور کے مطابق انسداد سموگ کارروائیوں کے دوران دھواں چھوڑنےوالی 244جبکہ بغیر فٹنس 59گاڑیوں کو بھی بند کردیا گیا۔رمحکمہ ایکسائز،ٹریفک پولیس اور آر ٹی اے لاہور کی ٹیمیں شہر میں ناکے لگاکر کاروائیاں کررہی ہیں۔

کمشنر لاہور نے بتایا کہ پورے شہر میں مسٹ گاڑیوں سے پانی کا چھڑکاو دن اور رات کے وقت جاری ہے،تمام محکمے چھڑکاو کررہے ہیں۔ضلع بھر میں فصلوں کی باقیات جلانے،کوڑا کرکٹ اورگرین ویسٹ کو آگ لگانے پر پابندی کیخلاف ورزی پر ایکشن لیتے ہوئےلاہور تا شیخوپورہ اور لاہور تا ننکانہ موٹروے کے ارد گرد کے زرعی علاقوں میں کاروائیاں کی گئیں۔

24گھنٹوں میں مختلف اطلاعات اور آن لائن ویب سائٹس کی بنیاد پر137جگہوں پر خلاف ورزیوں کی نشاندہی ہوئی۔اے سیز اور محکمہ زراعت کے افسران و ٹیموں نے تمام جگہوں کو فورا چیک کیا۔76جگہوں پر آگ لگا کر فصل یا فصلوں کی باقیات جلانے کی تصدیق ہوئی۔22زرعی زمین مالکان اور ٹھیکیداروں کیخلاف قانونی کاروائی کی گئی ۔فصلوں کو آگ لگانے پر 8مقدمات درج ہوئے2لاکھ 10ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیاتھا۔

Share With:
Rate This Article