21 February 2024

Homecolumnکوٹ ادو میں سیاسی ہلچل

کوٹ ادو میں سیاسی ہلچل

کالم نگار کاشف ندیم کی تصویر

کوٹ ادو میں سیاسی ہلچل

تحریر : کاشف ندیم

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے، بے یقینی کے منڈلاتے بادل آخر کار ٹل گئے ۔ عام انتخابات کرانے کی نوید آئی تو سیاسی رونقیں بھی بحال ہوگئیں۔ سیاسی بیٹھکیں سجنے لگی ہیں تبصرے ، تجزیے ،چہ میگوئیاں، مقامی و قومی سیاست پر بحث بھی چھڑ گئی۔ گھاگ اور نابلد مبصرین سبھی ذہن سازی میں مصروفِ عمل ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہر مکین کو جمہوری حق ملنے والا ہے تبھی قریہ قریہ سیاست پر ردوقدح جاری ہے۔

ملک کے دیگر اضلاع کی طرح نو مولود ضلع کوٹ ادو کی سیاست بھی قابل ذکر اور قدیم پسِ منظر رکھتی ہے۔ پہلے قارئین کے ذوقِ مطالعہ کے پیشِ نظر ماضی میں جھانکتے ہیں پھر حال اور مستقبل کی جھلک دیکھیں گے۔ ماضی میں قومی اسمبلی کی زینت بننے والی سیاسی شخصیات کون تھیں ؟ جو کوٹ ادو کے قومی اسمبلی کے حلقوں سے منتخب ہوکر گئے تھے۔

2024 ء میں نئی حلقہ بندیوں کے مطابق این اے 179 اور این اے 180 قومی اسمبلی کے یہ حلقے ضلع کوٹ ادو کے نصیب میں آئی ہیں۔ اس پر کون فاتح ہوتا ہے؟ اس سے پہلے ماضی کی سیاست کیا کہتی ہے ۔ ذیل میں ہے :

2018 ء میں NA181 اور NA 183 میں میاں شبیر علی قریشی اور ملک رضا ربانی کھر منتخب ہوئے تھے جبکہ حنا ربانی کھر بھی خواتین کی مخصوص نشست سے قومی اسمبلی کی رکن بنی تھیں۔ 2013 ء کے انتخابات میں NA177 ملک نور ربانی کھر اور NA176 میں سلطان محمود ہنجرا منتخب ہوئے ۔ 2008ء میں حلقہ NA176 اور NA177 میاں محسن علی قریشی اور حنا ربانی کھر 2002 ءکے انتخابات میں NA176 خالدہ محسن قریشی اور NA177سے حنا ربانی کھر منتخب ہوئی تھیں۔

1997 ء میں NA138 میاں غلام عباس قریشی ایم این اے منتخب ہوئےتھے اور NA137 سے ملک نور محمد ربانی کھر۔ 1993 ء میں حلقہ NA138 ملک غلام مصطفیٰ کھر منتخب ہوئے، 1990 ء میں حلقہ NA138 ملک غلام مصطفیٰ کھر منتخب ہوئے، 1988 ء میں حلقہ NA138 سےملک غلام مصطفیٰ کھر منتخب ہوئے، 1985 ء میں حلقہ NA:129 سے غلام مرتضیٰ کھر منتخب ہوئے، 1977 ء میں حلقہ NA129 سے دوست محمد خان بزدار، 1970 ء میں حلقہ Nw91 سے ملک غلام مصطفی ٰکھر منتخب ہوئے تھے ۔

موجودہ قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 179 متعدد امیدواروں کا حامل ہے ۔جس میں ملک احمد یار ہنجرا، میاں شبیر علی قریشی ، میاں امجد عباس قریشی اور حنا ربانی کھر کا نام قابلِ ذکر ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ سے احمد یار ہنجرا مضبوط امیدوار ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے متوقع امیدوار میاں امجد عباس قریشی ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے میاں شبیر علی قریشی امیدوار ہونگے۔

حنا ربانی کھر بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی متوقع امیدوار ہوسکتی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ خبر بہت گرم رہی کہ میاں شبیر علی قریشی تحریک انصاف کی بجائے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر میدان میں اترینگے۔ اس بارے میاں صاحب کی تردید بھی سامنے آتی رہی ۔ انہوں نے عمران خان کی حمایت میں اپنے بصری پیغامات وقتاً فوقتاً سماجی رابطوں کے ذرائع سے جاری کیے۔

تاہم بعض سیاسی ذرائع کے مطابق انہوں نے پیپلز پارٹی سے اپنے تمام پینل کے ٹکٹ مانگ لیے جس پر پارٹی قیادت نے ماسوائے انکی ذات کے باقی امیدواروں کو مسترد کیا جبکہ ماضی میں پیپلز پارٹی کی طرف سے انکے خاندان پر بہت نوازشات رہی ہیں۔ اور انکی سابقہ کامیابی کا سہرا بھی انکے والدین کی بدولت ہے۔

ان کے لیے بہترین موقع ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے سیاسی میدان میں اترتے ہیں تو شاید بہت ساری ناراضگیاں دور ہوجائینگی اور وہ مقابلے کی دوڑ میں بھی پیش پیش رہینگے لیکن موجودہ سیاسی صورتحال عمران خان کی گرفتاری اور نو مئی کے بعد وہ منظر عام سے غائب اور عوام سے دور ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میاں شبیر علی قریشی نے کچھ منصوبے کوٹ ادو کو دیے ہیں لیکن وہ انکی جیت کے لیے کافی نہیں ہیں کیونکہ ملک مصطفی ٰکھر ، میاں غلام عباس قریشی مرحوم اور میاں امجد عباس قریشی نے بھی اس طرح کے کام کیے تھے بلکہ اس سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں لیکن عوام نے انہیں دوبارہ موقع کیوں نہ دیا ، اسکی وجہ شاید یہی ہوسکتی کہ وہ عوام کے بیچ میں نہیں رہے اور میاں شبیر علی قریشی کا بھی منظر عام سے غائب ہوجانا بھی انہی روایات کی ایک جیتی جاگتی پیروی ہے، جسکا استفادہ ہنجرا خاندان کو ہوا ہے۔

اس خاندان کے اوصاف میں سے ایک صفت یہ بھی ہے کہ ان کے پاس اقتدار تھا یا نہیں لیکن ان کے ڈیرہ ہمیشہ آباد رہا۔ ملک افضل ہنجرا نے جس چابکدستی سے سے علاقائی سیاست کو چلایا شاید ہی کوئی اس کو چلا سکے۔ ہاں انکی جیسی تھوڑی بہت خصلتیں میاں رفیق احمد قریشی میں تھیں لیکن انکا اپنے سیاسی خاندان کے ساتھ اسقدر تعلق خاطر قائم نہ رہ سکا وگرنہ شبیر علی قریشی کی عدم موجودگی کا احساس بھی عوام کو نہ ہوتا۔

میاں امجد عباس قریشی کی سیاست انکے والد مرحوم میاں غلام عباس قریشی سے منسوب ہے جو شرافت کی سیاست کے علمبردار رہے ہیں ۔انکے بعد انکے فرزندان سیاست میں وہ مقام حاصل نہ کر پائیں لیکن میاں امجد عباس قریشی میں صلاحتیں ہیں اگر وہ سیاسی اکھاڑے میں جیت اپنے نام کر جاتے ہیں تو عوام کی امنگوں پر پورا اتریں کیونکہ زرعی اصطلاعات اور قدرتی گیس منصوبہ لانے میں انکی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔

اگر حنا ربانی کھر اس حلقے سے امیدوار ہوئیں تو امجد عباس قریشی انکے ساتھ ایم پی اے کے امیدوار ہوسکتے ہیں اور اگر شبیر علی قریشی صاحب پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے انتخابات میں آئے تو انکے ساتھ شاید میر آصف خان دستی کو ایم پی اے کے لیے ساتھ ملایا جائے۔ باوثوق ذرائع سے خبر یہ بھی گردش کر رہی ہے کہ میاں امجد عباس قریشی کے ساتھ ایم پی اے کے لیے اشرف خان رند کو ٹکٹ ملنے کے قوی امکانات ہیں اور یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اشرف خان رند ایک مضبوط امیدوار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جبکہ احمد یار ہنجرا قومی اسمبلی کی نشست کے لیے اسوقت سب سے آگے ہیں۔عوامی میل جول روابط میں بھی وہ سبقت لے گئے ہیں اور انکا ڈیرہ بھی آباد ہونے ساتھ ساتھ انکی مستقل مزاجی ہے جو انہیں اپنے حلقے میں ممتاز کیے ہوئ ہے۔جبکہ اس حلقے میں میاں شبیر علی قریشی کا بھی یہ الیکشن انکے لیے ان کا پہلا الیکشن ثابت ہوگا جو وہ اپنی کارکردگی پر لڑینگے جو ووٹ انکے والد مرحوم کی نسبت سے انکو پڑا تھا ۔

وہ شاید پیپلز پارٹی میں واپسی کی بدولت انکے حصے میں آسکتا وگرنہ رائے یہی ہے کہ میاں شبیر علی قریشی اپنے والد کے سایہ سے محروم ہونے کے بعد انکے اس ووٹ سے بھی محروم نظر آتے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے کوٹ ادو میں جتنے دھڑے بن گئے تھے، وہ بھی انکے ووٹ کو متاثر کرینگے۔

دوسری جانب حلقہ این اے 180 ہمیشہ کی طرح دلچسپ سیاسی داستان کا حامل جہاں تین بڑے سیاسی خاندانوں کے ساتھ دو چار اور بھی میدان میں اترنے کو کمر کس چکے ہیں ۔کھر ،گورمانی قریشی تو ایک دوسرے کے سیاسی حریف رہے ہی ہیں اب گشکوری ، مشوری، چھجڑا برادری کے ساتھ ساتھ رانا برادری بھی پیش پیش ہے۔

کھر خاندان سے ملک رضا ربانی کھر پاکستان پیپلز پارٹی سے مضبوط امیدوار کی حیثیت سے کمر کس چکے ہیں جبکہ انجئینر ملک بلال کھر بھی مسلم لیگ ن کے ٹکٹ سے ان کے مدمقابل آنے کے لیے پرجوش ہیں۔ فیاض حسین چھجڑا بھی پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ سے پر امید ہیں کہ وہ جیت اپنے نام کرنے کےخواب دیکھ رہے ہیں۔

مفتی اللہ بچایا بھی تحریک لبیک کے متحرک امیدوار ہیں۔قریشی خاندان کی جانب سے میاں ذوالفقار علی قریشی کی بھی شنید ہے کہ وہ تحریک انصاف کے ٹکٹ سے آسکتے ہیں اور مشوری برادری سے محبوب علی مشوری بھی تحریک انصاف کی نئی اعلی قیادت سے ملاقاتیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ عوام کی نظریں ٹھٹھہ گورمانی پر بھی جمی ہوئی ہیں ۔ آیا کہ وہاں سے بھی کوئی ایسا امیدوار سامنے آتا ہے جو این اے 180کے لیے خود کو میدان کا کھلاڑی ثابت کرے گا تو اب تک کی قیاس آرائیوں میں میاں ذیشان گورمانی بارے آرائیں اور خبریں گردش کر رہی ہیں۔جبکہ ن لیگ کے ٹکٹ سے ملک سلطان محمود ہنجرا بھی متوقع امیدوار ہوسکتے ہیں۔

میاں ذیشان گورمانی بھی آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کے خواہاں ہیں جبکہ انکے کچھ مشیر انہیں شیر کے نشان کے مشورے دے رہے ہیں جبکہ کچھ انہیں بلے کی تجویز بھی دے رہے ہیں۔ انکی کامیابی آزاد امیدوار ہونے میں زیادہ متوقع ہے۔ اگر وہ بطور ایم این اے امیدوار آتے ہیں تو ملک رضا ربانی کھر کے لیے مشکلات ہیں ۔ رضا ربانی کھر اگرچہ مضبوط امیدوار ہیں لیکن یہ انکا پہلا الیکشن ہوگا جو وہ اپنے زورِبازو پر لڑینگے چونکہ سابق الیکشن تو ان کے والد مرحوم نور ربانی کھر کے مرہون منت ہے ۔

دوسرا ان کے لیے مشکلات اس لیے بھی بڑھ چکی ہیں کہ انکے اپنے خاندان میں ملک بلال انجینئر بھی انکے مخالف انتخابی اکھاڑے میں ہیں۔ ادھر سے ملک فاروق کھر مرحوم کی بیٹی بھی انکی حمایت کرتی نظر نہیں آتیں ۔ خود انکا بھائی ملک عبدالخالق کھر بھی انکی مخالفت میں کسی کا حامی ہوسکتا ہے۔ وہ ان کے لیے اگرچہ بے ضرر ثابت ہوگا لیکن پریشانی کا موجب تو بن سکتا ہے۔’

اسی طرح محبوب علی مشوری بھی رضا ربانی کے ووٹ کو تقسیم کرنے میں کو ئی کسر نہیں روا رکھنے والے ۔جس کا فائدہ ذیشان گورمانی کو ہوگا۔ ادھر ملک بلال کھر نے جو ووٹ تقسیم کرنا اسکا فائدہ فیاض حسین چھجڑا لے جائے گا جبکہ کچھ برادریاں جن کا مرنا جینا دڑے کے ساتھ تھا۔ وہ ملک نور ربانی کھر کی وفات کے بعد ان کے جذبات بھی دم توڑ چکے ہیں۔

چند ایک اکثریتی ووٹ رکھنے والی برادریاں بھی ملک صاحب سے نالاں ہیں جن میں رڈ برادری ، سکھانی برادری اور انکے ساتھ جڑی کچھ ذیلی برادریاں ہیں ۔ یوں میاں ذیشان گورمانی کے راستے ہموار نظر آتے ہیں جبکہ ذیشان گورمانی کے لیے بھی انکے قبیلے سے امیدوار آنے کے قوی امکانات ہیں جن میں میاں طارق اور میاں خالد گورمانی ہیں خلیل احمد گورمانی اور نواب سیف الدین احمد بھی انکے ووٹ میں ضرور پھوٹ ڈالیں گے۔

لیکن جو مقابلے کی دوڑ ہے اس میں ابھی تک تو رضا ربانی کھر میاں ذیشان گورمانی ملک بلال انجینئرکھر میاں فیاض حسین چھجڑا اور ملک سلطان محمود ہنجرا نظر آتے ہیں۔ ملک سلطان محمود ہنجرا شاید اپنا فیصلہ واپس لے لیں چونکہ ملک رضا ربانی کھر نے ایک پریس کانفرنس میں واضع پیغام دیا کہ اگر ملک سلطان محمود ہنجرا انکے آبائی حلقے میں انتخابات لڑے تو وہ انکے آبائی حلقے یعنی 179 NA سے بین الاقوامی شہرت کا سیاسی امیدوار سامنے لے آئینگے ۔

قارئین کو تو شاید یہ محسوس ہورہا ہوگا کہ وہ حنا ربانی کھر ہونگی لیکن ملک مصطفی ٰکھر بھی اپنا سیاسی قد رکھتے ہیں جس کی بدولت 2018 ء کے انتخابات میں ملک سلطان محمود ہنجرا کو قومی اسمبلی میں جانے کا موقع نہ مل سکا۔

Share With:
Rate This Article