12 April 2024

Homecolumnمخصوص نشستوں پر ‘سلیکشن’ کا فارمولا کیوں؟

مخصوص نشستوں پر ‘سلیکشن’ کا فارمولا کیوں؟

پارلیمنٹ آف پاکستان/فائل فوٹو

مخصوص نشستوں پر ‘سلیکشن’ کا فارمولا کیوں؟

تحریر: مبشر مجید

آئین پاکستان اقلیتوں کو مکمل آزادی دیتا ہے۔ ہر پانچ سال بعد عام انتخابات میں خواتین اور اقلیتوں کو مخصوص نشستوں کے ذریعے پارلیمنٹ میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی کمیونٹی کی موثر نمائندگی کر سکیں۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 37 اور 38 میں اقلیتوں کے حقوق کی بارے تفصیل بیان کی گئی ہے۔

1985 سے 2002 تک جداگانہ انتخاب کے ذریعے مخصوص نشستوں پر نمائندگان منتخب کیے جاتے تھے لیکن 2002 سے ان کا طریقہ انتخاب مخلوط طرز میں تبدیل کر دیا گیا، یہ طریقہ اقلیتوں کے کہنے پر ہی تبدیل کیا گیا تھا کیونکہ اس میں کچھ نقائص تھے جیسے حلقہ بندیاں ڈویژن کی سطح پر نہیں تھیں اس طرح اقلیتی امیدوار کا الیکشن لڑنا بہت مشکل تھا۔ طریقہ انتخاب مخلوط طرز میں الیکشن شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی مقررہ تاریخ میں ہر سیاسی جماعت الیکشن کمیشن آف پاکستان کو نمائندگان کی ترجیحی لسٹ جمع کراتی ہے اور عام انتخابات کا عمل مکمل ہونے کے بعد جیتی گئی نشستوں کے حساب سے ہر جماعت کو اقلیتی نشستیں دی جاتی ہیں اور ترجیحی لسٹ میں سے ان نمائندگان کو منتخب کر لیا جاتا ہے لیکن اس طریقہ انتخاب مسیحی کمیونٹی کو قابل قبول نہیں۔

اقلیتی رہنما سوشل ایکٹوسٹ سیمسن سلامت کا کہنا ہے کہ اقلیتی نشستوں کے انتخاب کا جو طریقہ کار پاکستان میں نافذ ہے وہ سراسر غیر منصفانہ ہے کیونکہ جب اقلیتی رہنماوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے تو اس کا مکمل اختیار بھی اقلیتی کمیونٹی کو ہی ہونا چاہیے جبکہ اس وقت اختیار صرف سیاسی جماعتوں کے پاس ہے اور سیاسی جماعتیں صرف انہی اقلیتی رہنماوں کو ترجیحی لسٹ میں شامل کرتی ہیں جن کی بڑی سفارش ہو یا وہ کسی مرکزی رہنما کے وفادار ہوں بلکہ اکثر اوقات سیاسی جماعتیں ایسے رہنماؤں کو منتخب کر لیتی ہیں جن کی اپنی کمیونٹی کے لیے کوئی خدمات نہیں ہوتیں اور وہ غیر معروف ہوتے ہیں اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کی بجائے سیاسی قیادت کے اشاروں پر چلتے ہیں۔

سیمسن سلامت کا کہنا ہے کہ پارلیمانی نظام حکومت میں جمہوریت خاص اہمیت کی حامل ہے جمہوریت کا مطلب عوامی اقتدار عوام کے ذریعے حاصل کرنا ہے جبکہ مخصوص نشستوں کے نظام میں نشستوں کا مکمل اختیار سیاسی جماعت کی قیادت کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اقلیت کا اختیار اکثریت استعمال کر رہی ہے جو جمہوریت کی نفی ہے۔

اگر عام انتخابات 2023 میں مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اقلیتی سیٹوں کی ترجیحات کی بات کریں تو پاکستان مسلم لیگ نے اقلیتی امیدواران کی جو لسٹ جاری کی ان کی تعداد 8 تھی جن میں سے 5 امیدوار خلیل طاہر سندھو، رمیش سنگھ اروڑا، جوائس روفن جولیس، ہارون عمران گل اور اعجاز عالم پہلے بھی مخصوص نشست پر ممبر صوبائی اسمبلی رہ چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہارون عمران گل اور اعجاز عالم گزشتہ عام انتخابات میں تحریک انصاف کی جانب سے ایم پی اے منتخب ہوئے تھے جس کا مطلب ہے کہ انہیں اپنے ساتھ شامل کرنے کے لیے نوازا گیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کی جانب سے اقلیتی نمائندوں کی ترجیحی لسٹ میں 2 سکھ رہنماؤں کو پہلے نمبروں میں شامل کیا گیا ہے۔ حالانکہ تعداد کے لحاظ سے پنجاب میں سکھ سب سے کم ہیں۔

پنجاب کی دوسری بڑی اقلیت ہندو ہیں لیکن مسلم لیگ ن کی جانب سے انہیں یکسر انداز کیا گیا ہے جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے ایک ہندو نمائندہ آخری نمبر پر موجود ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی ترجیحی لسٹ میں 2 ہندو رہنما شامل کیے گئے ہیں۔

سیمسن سلامت مسئلے کا حل بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ سب سے پہلے تمام سیاسی جماعتیں متفقہ طور پر اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر “سلیکشن سسٹم ” کو مکمل طور پر ختم کریں اور قومی اور صوبائی سطح پر اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو پر کرنے کے لیے ڈویژن کی سطح پر حلقہ بندیاں کرائی جائیں اور جنرل الیکشن میں اقلیتی ووٹر ایک ووٹ جنرل نشستوں پر ڈالے اور ایک ووٹ ڈویژن کی سطح پر اقلیتی امیدوار کو ڈالے یا حلقہ سطح پر 2 بیلٹ پیپر جاری کیے جائیں۔ سبز بیلٹ حلقہ کی جنرل نشست اور سفید بیلٹ ڈویژن کی اقلیتی نشست کے لیے مقرر کیا جائے اور اقلیتی ووٹر ان پر ووٹ ڈالیں۔

ادارہ شماریات پاکستان کی مردم شماری 2017 کے مطابق ملک بھر میں کل آبادی کا 28۔96 فیصد مسلمان، 1-59 فیصد مسیح، 60۔1 فیصد ہندو اور 22۔0 فیصد قادیانی ہیں جبکہ پنجاب میں کل آبادی کا 21۔97 فیصد مسلمان، 31۔2 فیصد مسیح، 13۔0 فیصد ہندو اور 25۔0 فیصد قادیانی ہیں۔

مردم شماری 2017 کے مطابق ضلع وہاڑی کی کل آبادی 2902081 ہے جن میں 2882036 مسلمان، 18928 مسیح، 7 ہندو شامل ہیں۔2023 کی مردم شماری کے مطابق تاحال ضلع کی کل آبادی معلوم ہو سکی ہے جو3430421 نفوس پر مشتمل ہے۔

سابق ممبر ضلع کونسل اقلیتی نشست البرٹ پطرس بٹ جو 2002 میں مسلم لیگ ن کے اقلیتی نشست پر امیدوار ایم پی اے جبکہ 2018 میں مسلم ق کے امیدوار ایم این اے تھے کا کہنا ہے کہ اقلیتوں کو موثر سیاسی نمائندگی دینے کا مسئلہ قیام پاکستان سے اب تک حل نہیں ہو سکا۔ قیام پاکستان کے وقت اقلیتوں کی 10 نشستیں قومی اسمبلی کے لیے مخصوص کی گئی تھیں جن میں آج تک اضافہ نہیں کیا گیا حالانکہ اقلیتوں کی آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے اس کے علاوہ کبھی بھی اقلیتی رہنماؤں کو پارٹی کی جنرل باڈی میں جگہ نہیں دی گئی، ہمیشہ ان کو اقلیتی ونگ تک محدود رکھا جاتا ہے۔ اس کےے برعکس خواتین کے الگ ونگ ہونے کے باوجود انہیں جنرل باڈی میں مرکزی سطح تک نمائندگی دی جاتی ہے۔ جیسے تہمینہ دولتانہ مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر رہی ہیں مریم نواز شریف پارٹی کی چیف آرگنائزر ہیں اسی طرح مرکزی، صوبائی اور ڈویژن کی سطح پر جنرل تنظیم میں بھی اقلیتی عہدیداران شامل ہونے چاہئیں اس سے اقلیتوں میں بھی بہتر لیڈرشپ سامنے آئے گی جو کمیونٹی کی حقیقی ترجمان ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں پر براجمان اقلیتی نمائندگان کے پاس جب کمیونٹی کے لوگ اپنے مسائل لے کر جاتے ہیں تو متعدد بار انہیں یہ سننے کو ملتا ہے کہ ہم آپ کے ووٹ سے منتخب ہو کر نہیں آئے اس لیے آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ جمہوری طریقہ انتخاب میں اقلیتی نمائندگان ناصرف کمیونٹی کے پاس ووٹ کی غرض سے پہنچیں گے بلکہ ان کے مسائل سے بھی بخوبی آگاہ ہو سکیں گے۔

مسیحی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی قانون دان رانی برکت ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ جہاں تک پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کا تعلق ہے تو 78 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے اقلیتوں کی موثر نمائندگی کے لیے کوئی خاص کام نہیں کیا۔ ہمیں 3 سسٹم نظر آتے ہیں جن میں آمر جنرل ایوب، جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف نے اقلیتوں کے حق میں قانون سازی کی۔ اس کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو کی آئینی ترامیم نظر آتی ہیں جو کہ اقلیتوں کی نمائندگی کے حوالے سے ہیں۔

آئین کا آرٹیکل 25 ہمیں یہ آزادی دیتا ہے کہ ہم بغیر کسی مذہب، ساکھ، جنس اور نسل کے دیگر شہریوں کی طرح برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ اقلیتوں کو سیاسی حقوق نہ ہونے برابر دیے گئے ہیں۔ پاکستان میں اقلیتوں کی آبادی 95 لاکھ سے زائد ہے اور 45 لاکھ رجسٹرڈ ووٹ ہے اب تک ہونے والے 15 الیکشنز میں قلیتوں کی نشستوں کی تعداد نہیں بڑھی، سیاسی جماعتیں خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے جو ترجیحی لسٹیں الیکشن کمیشن کو دیتے ہیں اس میں اقلیتی خواتین کو نمائندگی نہیں دی جاتی اس طرح اقلیتی خواتین کو پارلیمنٹ میں باقاعدہ نمائندگی کے حق سے محروم رکھا گیا ہے قیام پاکستان سے اب تک اقلیتوں کی 38 کل نشستوں میں ایک کا بھی اضافہ نہیں ہو سکا۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر اقلیتوں کو دوہرے ووٹ کا حق دے دیا جائے تو نہ صرف موثر نمائندگی کے امکانات بڑھیں گے بلکہ اقلیتی نشستوں میں بھی اضافہ ہو گا۔

سماجی رہنما، پاکستان کرسچن پارلیمنٹ کے سربراہ ریاض عاصی کا کہنا ہے کہ پولیٹکل پارٹی آرڈینینس میں اقلیتوں کو پارٹی ہیڈ کے مرہون منت کر دیا گیا جس کے بعد سے جو جس کا چہیتا ہوتا ہے اس کو اقلیت پر مسلط کر دیا جاتا ہے چاہے اس کی گراس روٹ لیول تک نمائندگی بھی نہ ہو یہ یقینا غیر منصفانہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 15 اگست 2015 میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ بات واضح طور پر بتائی گئی کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ تیسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔ جب آئین پاکستان یہ بات واضح بیان کرتا ہے جب بھی کوئی قانون بنیادی انسانی حقوق کے خلاف بنے اسے عدالت کالعدم قرار دے سکتی ہے لیکن یہاں سپریم کورٹ کی جانب سے بھی اقلیتوں کے ساتھ دوغلی پالیسی اختیار کرتے ہوئے خاموشی اختیار کی گئی۔ جب آئین کا آرٹیکل 226 تمام شہریوں کو خفیہ رائے شماری کا حق دیتا ہے تو کوئی جماعت اپنی مرضی سے نمائندے کیسے فائنل کر سکتی ہے۔

ریاض عاصی کا کہنا ہے کہ آئین میں ترمیم وقت کی ضرورت ہے تمام سیاسی جماعتیں متفقہ طور پر آئین میں ترمیم کرکے سلیکشن کے طریقہ کار کو ختم کریں اور الیکشن کمیشن کو جو ترجیحی لسٹ جمع کراتی ہیں اسی کے تحت صوبائی یا کم از کم ڈویژن کی سطح پر ووٹنگ کرائی جائے اور متناسب نمائندگی کے طریقہ کار کے تحت نمائندے منتخب کیے جائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے دشواریاں اس لیے بھی آر ہی ہیں کہ وہ اقلیتی رہنما جو پارٹیوں کی مرضی کے مطابق چلتے ہیں وہ ہماری آواز پارٹی قیادت تک پہنچنے ہی نہیں دیتے اس لیے وہ سیمینارز، احتجاجی ریلیوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے یہ پیغام عام کر رہے ہیں اس کے علاوہ 5 جنوری کو لاہور سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کریں گے تاکہ ہمارے مطالبات کو سنجیدگی سے تسلیم کیا جائے۔

غیرمسلم کے علاوہ مسلم قانون دان /دانشورسے بھی اس بارے میں رائے حاصل کیجیے۔ سینئر تجزیہ کار میاں وحید الرحمن کا کہنا ہے کہ اقلیتی کمیونٹی ہمارے دست و بازو ہیں ان کے جائز مطالبات ماننے میں کوئی حرج نہیں ہے دراصل اقلیتی نشستوں پر ووٹنگ کا عمل صوبائی اور قومی سطح پر 2002 سے پہلے بھی رائج تھا لیکن اس سے الیکشن کمیشن پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اس حوالے سے اگر اقلیتی رہنما متفق نہیں تو ڈویژن لیول پر حلقہ بندیاں کر کے دوہرے ووٹ کا حق دینا چاہیے کیونکہ پاکستان کا اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے حوالے سے واضح ہے۔اور دوہرے ووٹ سے اقلیتی امیدواروں اور ووٹرز کے درمیان خلیج کم ہو سکے گی ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں گے۔

علاقے کی بڑی سیاسی جماعتوں کا اس بارے میں موقف حاصل کیجیے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ملک طاہر حسین کا کہنا ہے کہ ہماری جماعت نے ہمیشہ اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے اور یہ روایت تب سے شروع ہوئی جب پارٹی منشور میں ذوالفقار علی بھٹو نے اقلیتوں کے حقوق کو شامل کیا۔وہ بتاتے ہیں ایک سائیکل سوار غریب اقلیتی رہنما لال دین کو پیپلز پارٹی نے سینٹر بنایا اور ہمیشہ مخصوص نشستوں پر بھی اہل افراد کو سامنے لاتی ہے اگر اسمبلی میں دوہرے ووٹ اور ڈویژن کی سطح پر حلقہ بندی کی قرارداد پیش ہوئی تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرے گی۔

Share With:
Rate This Article