23 February 2024

Homeپاکستانپاکستان اور افغانستان کو آپس میں لڑانے کی کوشش کی جارہی :مولانا فضل الرحمان

پاکستان اور افغانستان کو آپس میں لڑانے کی کوشش کی جارہی :مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان کا جلسے کے دروان انداز

پاکستان اور افغانستان کو آپس میں لڑانے کی کوشش کی جارہی :مولانا فضل الرحمان

پشاور:(سنونیوز)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو آپس میں لڑانے کی کوشش کی جارہی ہے، عقلمندی سے اس معاملے کو حل کرنا ہوگا ورنہ یہ نقصان دہ ہوگا۔افغانستان کی اندورنی سیاست سے ہمیں کوئی تعلق نہیں، اور نہ ان کو ہمارے سیاست سے تعلق رکھنا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے پشاور وزیر باغ میں گرینڈ شمولیتی جلسہ سے خطاب کے دوران سابق ناظم اعلی پشاور حاجی محمد عمر خان ساتھیوں سمیت جے یو آئی میں شامل ہونےپران کو خوش آمدیدکہا،مولانا فضل الرحمان نے خطاب کے دوران سوال کیا کہ یہ ملک لاالہ اللہ کے نام پر بنا تھا، ہم نے کیا اپنا حق ادا کیا ہے،کیا ہم نے دین کا حق ادا کیا ہے؟ مذہب کے حوالے سے ہم پر دباؤ ہے،ہم نے اپنی رویوں سے کفر کے دباؤ کو ختم کرنا ہے۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ افغانستان ایران،بنگلہ دیش ہم سے بہتر جا رہا ہے،ہم ہے کہ مہنگائی کے بحران کا شکار ہیں،پاکستان کی معاشی بحران ایجنڈے کے تحت ہے،ہم نے ان قوتوں کو مات دینی ہے، یہ ملک کلمہ کے نام پر حاصل کیاہمیں اپنے گریبان میں جاکر سوچنا ہوگا کہ ہم نے کیا حاصل کیاہے،ملک کے پارلیمنٹ کو بھرنے والوں نے کیا غورکیا ہے کہ 75 سال ہم نے کیا کیا،پارلیمنٹ کو بھرنے والوں نے ملک کے ساتھ مذاق کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو بتانا چاہتاہوں کہ ہم پرعالمی سطح پر دباؤ ہے،جو نظام انسانی مال و جان کی حفاظت کرتا ہے آج اس نظام کا کیا نام رکھا ہے ،یہ عالمی کفر کی سازش ہے،ہماری فوج کو بلیک میل کیا جارہا ہے،بنگلہ دیش ،انڈیااورایران ہم سے آگے جارہے ہیں اور ہم کہاں کھڑے ہیں۔

مولانا نے مزید کہا کہ ہم آج بھی مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں،صرف عمران خان مجرم نہیں ہے وہ جرنیل بھی برابر کا شریک ہے جو ان کو لایا تھا،ہمیں اپنے نوجوانوں کے مستقل کو محفوظ بنانا ہ،جو لوگ ہمارے صوبے اور ملک کے مجرم ہے آج صوبہ ان کے حوالے کیا جارہا ہے۔

مولانا مزید بولے کہ قوم پرست آج جلسے کرکے کہہ رہے کہ قبائل کے ساتھ ظلم کیا گیا،آج ان لوگوں کو پتہ چلا،ہمیں پتہ ہے کہ کہاں سے ان کو ہدایات مل رہے تھے۔ہم پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا دبائو تھا،عمران خان اور جنرل باجوہ امریکی صدر سے بھی ملے،ہم فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔

Share With:
Rate This Article