19 April 2024

Homeالیکشن 2024بیرسٹر گوہر کی آبائی حلقے میں پوزیشن کتنی مضبوط؟

بیرسٹر گوہر کی آبائی حلقے میں پوزیشن کتنی مضبوط؟

بیرسٹر گوہر کی آبائی حلقے میں پوزیشن کتنی مضبوط؟

بیرسٹر گوہر کی آبائی حلقے میں پوزیشن کتنی مضبوط؟

پشاور:(ویب ڈیسک) ضلع بونیر میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 10 سے 8 امیدوار مدمقابل ہیں جن میں پی ٹی آئی کے سابق چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

دیگر امیدواروں میں پی ٹی آئی (پارلیمنٹیرینز) کے شیر اکبر خان، عوامی نیشنل پارٹی کے عبدالرؤف، مسلم لیگ ن کے سالار خان، پیپلزپارٹی کے یوسف علی، جماعت اسلامی سے بخت جہاں اور عوامی ورکرز پارٹی کے عثمان غنی شامل ہیں۔

قومی اسمبلی کے حلقے این اے 10 بونیر میں ووٹروں کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 56 ہزار 867 ہے اور یہ 6 تحصیلوں پر مشتمل ہے۔ اس حلقے میں 3 صوبائی حلقے پی کے 25، 26 اور 27 کی نشستیں شامل ہیں، این اے 10 میں 397 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 21 پولنگ سٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

این اے 10 کا حلقہ جو پہلے این اے 28 ہوا کرتا تھا یہاں سے 2002 میں پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) کے شیر اکبر خان کامیاب ہوئے تھے۔ سنہ 2008 کے انتخابات میں آزاد امیدوار عبدالمتین خان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے جبکہ 2013 اور 2018 کے انتخابات میں شیر اکبر خان مسلسل دو مرتبہ کامیاب ہوئے۔

ماضی میں بیرسٹر گوہر علی خان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے رہا ہے۔ 2008 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے انتخابات میں حصہ لیا مگر آزاد امیدوار عبدالمتین سے شکست کھا گئے۔ اس کے بعد انہوں نے 2013 اور 2018 کے الیکشنز میں حصہ نہیں لیا۔

یہ بھی پڑھیں:

سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی: چیئرمین پی ٹی آئی

بیرسٹر گوہر نے 2022 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرکے نیا سیاسی سفر شروع کیا۔بیرسٹر گوہر کو عمران خان کی قانونی ٹیم میں شامل کیے جانے کے علاوہ پارٹی کی چیئرمین شپ کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔

تاہم عدالتی فیصلے کے نتیجے میں انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا گیا جس کے نتیجے میں وہ چیئرمین کے عہدے سے فارغ ہوگئے۔ مقامی صحافیوں کے مطابق ’عمران خان کے ساتھ انتقامی رویے کے باعث پی ٹی آئی کی مقبولیت بہت زیادہ ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بونیر میں پی ٹی آئی دو حصوں میں بٹ چکی ہے۔‘

’ایک طرف بیرسٹر گوہر کو عمران خان کی حمایت حاصل ہے تو دوسری جانب شیر اکبر خان سابق وزیراعلٰی پرویز خٹک کے امیدوار ہیں اور وہ اپنا ووٹ بینک بھی رکھتے ہیں،بیرسٹر گوہر نے اس سے پہلے بھی الیکشن میں حصہ لیا لیکن ناکام رہے، اسی لیے ان کے لیے اس بار بھی انتخابی معرکہ آسان نہیں ہو گا۔‘

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے بعد بیرسٹر گوہر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے انہیں انتخابی نشان ’چینک‘ الاٹ کیا گیا ہے۔

واضح رہے تحریک انصاف کے کھلاڑی آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑیں گے۔ عام انتخابات 2024 ء کیلئے الیکشن کمیشن کی جانب سےانتخابی نشانات الاٹ کردیئے گئے۔ مختلف امیدواروں کو الگ الگ انتخابی نشان جاری کئےگئے ہیں۔

دوسری جانب قابل توجہ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے امیدواروں سے “بلا” کیا گیا جماعت مخصوص نشستوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی ہے۔ اہم پی ٹی آئی رہنما جوکہ بلے کے بغیر میدان میں اتریں گے ان کی تفصیلات کچھ یوں ہیں:

یہ بھی پڑھیں:

این ار او لینے والوں سے کسی بھی قسم کا اتحاد نہیں ہو سکتا: عمران خان

بانی تحریک انصاف عمران خان کےترجمان بیرسٹرعمیر نیازی این اے 90(میانوالی 2) سےدروازے کے نشان پر عام انتخاب 2024 ءکا حصہ بنیں گے۔ ڈیرہ غازی خان کے این اے 184 سے زرتاج گل بنچ کے نشان پرآزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اتریں گی۔ سندھ کے حلقہ این اے 214 (تھرپارکر) سے شاہ محمود قریشی مور کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑیں گے۔این اے 221 (ٹنڈومحمدخان) سے محمد عرفان بوتل کانشان الاٹ کیا گیا۔

اسلام آباد کے این اے 46 سے عامر مغل کو بینگن بطور انتخابی نشان مل گیا۔ این اے 47 سے شعیب شاہین کو جوتے کا نشان الاٹ کیا گیا جبکہ این اے 48 سے راجہ خرم شہزاد نوازکو انارکا نشان دیا گیا۔راولپنڈی کے حلقہ این اے54 سے ملک تیمور مسعودکو ڈھول کا نشان ملا۔ این اے55 ( راولپنڈی) سے راجہ بشارت کوکیتلی کا نشان دیا گیا۔ این اے51(مری) سے محمد لطاسب ستی کو رباب کا نشان دیا گیا۔

پنجاب کے این اے 150(ملتان) سےشاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی جوتے کے نشان پرجبکہ ان کی صاحبزادی مہر بانو این اے 151( ملتان) سے چمٹے کے نشان پرالیکشن لڑیں گی۔این اے 148 (ملتان) سے بیرسٹر تیمور ملک گھڑی کے نشان پر، این اے 149 (ملتان) سے ملک عامر ڈوگر کلاک کے نشان پر، این اے 152 (ملتان) سے عمران شوکت سرنگ کے نشان پر، این اے 153 ( ملتان) سے ڈاکٹر ریاض لانگ گھڑی کے نشان پر الیکشن لڑیں گے۔

لاہور کے حلقہ این اے117 سے ابرار الحق گٹار کے نشان پر انتخاب میں حصہ لیں گے۔ این اے118 سے عالیہ حمزہ ملک ڈائس کے نشان پر، این اے 119سے اکمل خان مینار کے نشان پر، این اے این اے 120ہمایوں شوکت علی بٹ چھتری کے نشان پر، این اے 122 سے لطیف خان کھوسہ کو ایلفابیٹ کے، این اے 123 افضال عزیم پاہٹ ریڈیو کے نشان پر،این اے 159 (وہاڑی) سے اورنگزیب خان کھچی کو حقہ، این اے 154 (لودھڑاں) سے رانا محمد فراز نون کو ڈولفن ، این اے 162 (بہاولنگر) سے خلیل احمد کو ڈھول، این اے 156 (وہاڑی) سے عائشہ نذیر جٹ کو پیالہ، این اے 49 ( اٹک) سے میجر ریٹائرڈ طاہر صادق کو بھیڑ، این اے 50 ( اٹک) سے ایمان طاہر کو واٹر ٹربائن کا نشان الاٹ کیا گیا۔

فیصل آباد کے این اے96 سے رائے حیدر کھرل اوراین اے 98 سے افتخار رسول گھمن ریڈیو کے نشان پراپنی قسمت آزمائیں گے۔ این اے 99 سے ملک عمر فاروق پریشر ککر اور این اے 104 سے صاحبزادہ حامد رضا مینار کے نشان پر الیکشن لڑیں گے۔

Share With:
Rate This Article