12 April 2024

Homeتازہ ترینغزہ پر اسرائیلی حملوں میں تیزی، شدید بمباری

غزہ پر اسرائیلی حملوں میں تیزی، شدید بمباری

امریکا کی جانب سے ویٹو کے بعد غزہ میں اسرائیلی حملوں میں تیزی آگئی/ فائل فوٹو

غزہ پر اسرائیلی حملوں میں تیزی، شدید بمباری

غزہ: (سنو نیوز) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی قرارداد ویٹو ہونے کے بعد غزہ میں فلسطینیوں کو مزید اسرائیلی فضائی اور زمینی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق غزہ سے نکلنے سے قاصر 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں نے سنیچر کو شدید بمباری کا سامنا کیا۔ بمباری ان علاقوں میں بھی کی گئی جنہیں اسرائیل نے محفوظ زون قرار دیا تھا۔

واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل کے لیے 106 ملین ڈالر مالیت کی گولہ بارود کی ہنگامی فروخت کی منظوری دی گئی ہے۔ امریکہ کی جانب سے 14 ہزار سے زیادہ ٹینک کے گولے فروخت کرنے کا اعلان غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے قرارداد ویٹو کرنے کے ایک دن بعد کیا گیا۔

وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ اسرائیل کو فوری طور پر ٹینکوں کے گولے فروخت کرنا ہنگامی صورتحال میں قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ اس فروخت کو معمول کے کانگریس کے جائزے سے بھی استثنیٰ دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

غزہ جنگ: خان یونس میں گلیوں اور گھروں کے اندر لڑائی جاری

فلسطین وزارت صحت کے اعداوشمار کے مطابق غزہ میں فلسطینی شہداء کی تعداد 17 ہزار 700 سے بڑھ گئی ہے جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔ وزارت صحت نے کہا تھا کہ مرکزی اور جنوبی غزہ کے دو ہسپتالوں میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والے 133 افراد کی لاشیں وصول کی گئیں۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کو امریکہ کی طرف سے ویٹو کئے جانے کو فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم میں شریک ہونے کا اظہار کہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ غزہ میں بہنے والے بچوں، عورتوں اور بزرگوں کے خون کا ذمہ دار امریکہ ہے۔

امریکہ بار بار غزہ میں مستقل جنگ بندی کی مخالفت کر چکا ہے اور اس سلسلے میں اسی موقف کا حامی ہے جو اسرائیل کا موقف ہے۔ البتہ امریکہ جنگ میں چھوٹے وقفوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔ جبکہ سلامتی کونسل میں جب بھی جنگ بندی کے حق میں قرارداد یا مطالبہ آیا امریکہ نے اس کی مخالفت کی۔

جیسا کہ ہفتہ کے روز ایک بار پھر امریکہ نے جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کر دیا ہے۔ اس قرارداد کے حق میں پندرہ میں سے تیرہ ووٹ آئے تھے۔ برطانیہ نے اپنے ووٹ کا استعمال نہیں کیا تھا جبکہ امریکہ نے قرارداد کو ویٹو کر دیا۔

دوسری جانب ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی طرف سے یہ اعلان ان مسلسل خبروں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں غزہ میں انسانی بنیادوں پر سامان کی فراہمی میں بد ترین مشکلات کا کا ذکر ہوتا اور بتایا جا رہا ہے کہ غزہ میں خوراک سمیت تمام تر بنیادی اشیائے ضروری بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق امداد تقسیم کرنے کے مقامات پر چھینا جھپٹی کی صورت حال دیکھنے میں آ رہی ہے۔ جبکہ اشیاء فراہمی کو بھی محدود تر بتایا جاتا ہے۔ حوثیوں نے اس کے ردعمل میں اسرئیل کو جانے والے ہر قسم کے سامان کا راستہ بند کرنے کے لیے یہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے ‘ خواہ کسی بھی قوم یا ملک کا بحری جہاز ہو اب اسرائیل کے لیے امدادی سامان نہیں لے جا سکے گا۔’

تاہم حوثیوں نے اس پابندی کے نفاذ میں یہ تخصیص نہیں کی ہے کہ وہ بحری جہاز جنگی سامان لے کر اسرائیل جانے والے ہوں گے یا صرف عام ضرورت کی تجارتی اشیا لے جانے والے کمرشل جہاز ہی اس پابندی کی زد میں آئیں گے۔

ایرانی حمایت یافتہ حوثی پچھلے کئی ہفتوں سے یمن سے جڑے سمندری راستوں میں اپنی موجودگی دکھا رہے ہیں اور اسرائیل کے حمایتی جہازوں پر راکٹ داغنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس تنا ظر میں امریکہ نے نمائندہ خصوصی برائے یمن خلیجی ملکوں کا ایک دورہ بھی کر چکے ہیں۔

Share With:
Rate This Article