Homeپاکستانعدالتیںپی ٹی آئی کی بلے کے نشان کیلئے پشاور ہائیکورٹ میں سماعت

پی ٹی آئی کی بلے کے نشان کیلئے پشاور ہائیکورٹ میں سماعت

پی ٹی آئی بلے

پی ٹی آئی کی بلے کے نشان کیلئے پشاور ہائیکورٹ میں سماعت

پشاور: (سنو نیوز) تحریک انصاف کی بلے کے نشان کیلئے پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔ پی ٹی آئی وکیل نے دلائل میں کہا انتخابی نشان واپس لینا پارٹی کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ بیرسٹر گوہر کہتے ہیں عدالت کا ہر فیصلہ قبول کریں گے۔ پی ٹی آئی کی اپیل پر سپریم کورٹ میں بھی کل کیس کی سماعت ہو گی۔

پی ٹی آئی وکیل شاہ فیصل اتما نخیل اور الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر شاہ مہمند عدالت میں پیش ہوئے، بیرسٹر گوہر راستے میں ہیں، کیس کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دیں، پی ٹی آئی وکیل نے استدعا کی۔

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم جواب جمع کرتے ہیں، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ ابھی جواب جمع کرلیں،عدالت نے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔

جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی نے سماعت میں دوبارہ وقفہ کر دیا ہے، قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ گوہر خان 5 سے 10 منٹ می پہنچ جائیں گے، بس تھوڑا وقت دیا جائے، کچھ دیر میں پہنچ جائینگے۔

جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ کیا آپ انٹرسٹڈ نہیں؟ صبح سے ہم اس کے لیے انتظار کررہے ہیں، سپریم کورٹ میں جب ہمارے کیسز ہوا کرتے تھے تو ہم صبح سویرے پہنچنے تھے، یہ کونسا طریقہ ہے کہ بنچ کو انتظار کروایا جارہا ہے، الیکشن کمیشن نے اپنا جواب جمع کردیا ہے، وہ آجائے تو کیس کو سنتے ہیں۔

بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو شکایات دینے والوں نے دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی استدعا کی تھی. پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات جون 2022 میں کرائے، ہم نے الیکشن کمیشن کو ریکارڈ پیش کیا، بعد میں الیکشن کمیشن نے اس پر سوالات اٹھانا شروع کئے، آخر میں الیکشن کمیشن نے 20 روز میں دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا حکم دیا۔

بیرسٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ انتخابات کالعدم قرار دینے کے بعد انتخابی نشان لایا گیا، اب پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد ہونگے، پی ٹی آئی مخصوص نشستوں سے بھی محروم ہوگی ہے، انتخابی نشان دراصل بنیادی حق ہے۔

بیرسٹر ظفر نے سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کا حوالہ بھی دیا۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 22 دسمبر 2023 کو پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دیئے تھے۔

پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس کامران حیات نے 26 دسمبر 2023 کو الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کیا تھا جبکہ پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز خان نے 3 جنوری 2024 کو معطلی کا فیصلہ واپس لیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے بلے کا نشان واپس لینے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ عدالت عظمیٰ میں چیلنج کر دیا۔

مزید پڑھیں

پی ٹی آئی کی بلے کا نشان واپس لینے کی درخواست لاہورہائیکورٹ سے بھی مسترد

پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر علی خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ، پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے، اپیل کو کل جمعہ کو سماعت کیلئے مقرر کیا جائے۔

سپریم کورٹ میں غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ چند اہم درخواستوں پر دستخط کرنے عدالت آیا اور بلے کے انتخابی نشان کے لیے درخواست جمع کروا دی ہے، سپریم کورٹ سے درخواست کریں گے ہمیں سنا جائے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنی درخواست میں لکھا تھا یہ اہم ترین معاملہ ہے اور ہماری بھی یہی استدعا ہے کہ اسکروٹنی کا وقت ختم ہو رہا ہے ٹکٹ تقسیم کرنا ہے، کوشش ہے جلد سے جلد یہ کیس لگے اور اللہ کرے بلے کا نشان ملے، ہمیں امید ہے۔

Share With:
Rate This Article