واقعے کے بعد خطے کی صورتِ حال مزید نازک ہو گئی ہے اور متعلقہ ممالک نے حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کویت، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایرانی میزائلوں اور بغیر پائلٹ فضائی جہازوں کو فضا ہی میں روک لیا، فوری کارروائی کے باعث ممکنہ نقصان ٹل گیا۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کشیدگی کے خاتمے کیلئے تین اہم شرائط پیش کی ہیں، سب سے پہلے ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے، دوسرا جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور تیسرا مستقبل میں کسی بھی ممکنہ جارحیت کیخلاف مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کی جائیں۔
ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر ان شرائط کو تسلیم کیا جائے تو خطے میں امن کے قیام کیلئے مثبت پیش رفت ممکن ہے، اس کے ساتھ ہی امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اہم سمندری راستوں میں تیل بردار جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا تاکہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں:ایران پر حملے کیلئے کوئی ٹارگٹ نہیں بچا: ڈونلڈ ٹرمپ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن سفارتی کوششیں جاری رہیں تو صورتحال قابو میں لائی جا سکتی ہے۔