عمران خان کی صحت کا معاملہ، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم
بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) و سابق وزیراعظم عمران خان
اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت کی/ فائل فوٹو
اسلام آباد (سنو نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے جیل رولز کے مطابق فیملی کو آگاہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ندیم قریشی فیملی کے ساتھ رابطے میں رہیں، ڈاکٹر عارف، ڈاکٹر ندیم قریشی کو بھی میڈیکل بورڈ میں شامل کیا جائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) و سابق وزیراعظم عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔ سپریم کورٹ کے آرڈر کو ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کے سامنے پڑھا۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کیا 16 فروری سے پہلے آپ نے ان کا میڈیکل چیک اپ کرایا تھا ؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت نے کہا کہ جی ان کا چیک اپ کرایا تھا، سپریم کورٹ نے عمران خان کے ذاتی معالجین کی رسائی کی درخواست کو اگنور کیا۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ نے کوئی آبزریشن نہیں دی کہ ہائی کورٹ اس درخواست کو کیسے دیکھے گی۔ جس پر ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ ان کے ڈاکٹرز کو بتایا گیا تھا۔ علیمہ خان نے ٹوکتے ہوئے کہا کہ کہاں کس نے بتایا تھا ، ہمیں روزہ بھی لگا ہوا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ ہمارا بھی روزہ ہے۔ عدالت نے علیمہ خان کو دلائل کے دوران بات کرنے سے روک دیا۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، لاہور ہائیکورٹ نے بڑا قدم اٹھا لیا

جسٹس خادم حسین سومرو نے علیمہ خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نہ بولیں آپ کے وکیل بھی کھڑے ہیں۔ جس پر علیمہ خان نے جواب دیا کہ سوری جج صاحب۔ جسٹس اربابِ محمد طاہر نے سوال کیا کہ میڈیکل بورڈ سپریم کورٹ کے حکم پر بنا یا آپ نے خود بنایا ؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ آنکھ کا اسپیشلسٹ ہونا چاہی ،شفا آئی ہسپتال کے رٹنا اسپیشلسٹ ڈاکٹر ندیم قریشی ان کے کہنے پر بورڈ میں شامل کئے گئے۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے گوگل بھی کیا تھا ڈاکٹر ندیم قریشی بہترین رٹنا اسپیشلسٹ ہیں، آپ ان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر کے ٹیسٹ کر لیں، ہم یہ نہیں کہیں گے کہ اتنے دن رکھیں اتنا وقت رکھیں۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا کہ میڈیکل بورڈ کا کوئی بھی کاغذ ہمارے پاس نہیں ہے، یہ تسلیم شدہ ہے ایشو ہے علاج ہو رہا ہے، آپ شفا انٹرنیشنل ہسپتال بے شک دو گھنٹے کے لیے شفٹ کر دیں ہم یہ نہیں کہیں گے تین دن یا تین ماہ رکھیں۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دیکھ لیں یہ ساری ذمہ داری آپ لے رہے ہیں، اگر کل کچھ ہوگیا تو کیا آپ ذمہ داری لیں گے۔ جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ ہم ذمہ داری لیں گے۔ عدالت نے کہا کہ کیا ریکارڈ پر لکھ دیں، قانون کے مطابق فیصلہ ہوگا، اگر قیدی مطمئن نہیں تو کیا ہو گا۔ جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ میڈیکل آفیسر کا مطمئن ہونا ضروری ہے قیدی کا نہیں۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ آپ علاج تو کروا رہے ہیں اب چیک اپ شفا میں ہو جائے ذاتی معالجین کو رسائی دے دیں، علاج ہو رہا ہے حکومت تسلیم کر رہی ہے ڈاکٹر ندیم قریشی بہترین رٹنا اسپیشلسٹ ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
 

ضرور پڑھیں