عمران خان کیخلاف گھیرا مزید تنگ
November, 25 2024
اسلام آباد:(سنو نیوز)24 نومبر کے احتجاج کی کال کے بعد تھانہ ٹیکسلا، صادق آباد اور دھمیال میں تین مقدمات درج کر لیے گئے۔
تفصیل کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور دیگر اہم پارٹی رہنماؤں کے خلاف احتجاج اور پرتشدد مظاہروں کے الزام میں تین مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ مقدمات میں دہشتگردی ایکٹ، ڈکیتی، اقدام قتل اور دیگر سنگین دفعات شامل ہیں۔
پہلا مقدمہ تھانہ ٹیکسلا میں درج کیا گیا تھا، جس کے متن کے مطابق 24 نومبر کے احتجاج کا پیغام علیمہ خان کے ذریعے عوام تک پہنچایا گیا۔ بشریٰ بی بی نے اپنے ویڈیو پیغام میں ایم این ایز اور ایم پی ایز کو لوگوں کو احتجاج میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔
پولیس پر حملہ اور سرکاری املاک کو نقصان:
متن کے مطابق، بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر کارکنوں نے ٹیکسلا کے علاقے گانگوں میں مظاہرہ کیا، جہاں عمر ایوب کی سربراہی میں سرکاری موٹر سائیکل کو نقصان پہنچایا گیا اور ڈرائیور کو اغوا کر کے بعد میں چھوڑ دیا گیا۔ مظاہرین نے پولیس پر حملہ کیا، سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالی، اور عوامی راستے بند کر کے شہری زندگی کو متاثر کیا۔
پرتشدد احتجاج کے خلاف سخت اقدامات:
مقدمات میں بشریٰ بی بی، علیمہ خان، سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی، علی امین گنڈاپور، حماد اظہر، اسد قیصر، شہریار ریاض اور دیگر رہنماؤں کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق، ملزمان نے احتجاج کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف نعرہ بازی کی اور عوام میں خوف و ہراس پیدا کیا۔
تینوں مقدمات کا تعلق مجرمانہ سازش، ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی، اور عوامی زندگی کو مفلوج کرنے سے ہے۔
ریاستی ادارے معاملے پر سخت موقف اپنائے ہوئے ہیں اور مزید قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔