بجٹ سے پہلے ہی سولر پینلز کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 5 کلوواٹ سے 15 کلوواٹ تک کے آن گرڈ سولر سسٹمز کی قیمتوں میں ڈیڑھ لاکھ سے 2 لاکھ روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے صارفین میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ اب 5 کلوواٹ سولر سسٹم کی نئی قیمت 6 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے جو پہلے 5 لاکھ روپے کے قریب تھی، اسی طرح 7 کلوواٹ کے سولر سسٹم کی قیمت میں 2 لاکھ روپے کا اضافہ ہوا ہے اور یہ اب 8 لاکھ 25 ہزار روپے پر پہنچ گئی ہے۔
اسی طرح 10 کلوواٹ سولر سسٹم کی قیمت بھی 9 لاکھ سے بڑھ کر 11 لاکھ روپے ہو گئی ہے جبکہ 12 کلوواٹ سسٹم کی قیمت 2 لاکھ روپے اضافے کے بعد 12 لاکھ 50 ہزار روپے پر جا پہنچی ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 15 کلوواٹ سولر سسٹم کی قیمت بھی بڑھ کر 14 لاکھ 50 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، جو پہلے تقریباً 13 لاکھ روپے تھی۔
یہ اضافہ آن گرڈ سولر سسٹمز کے لیے ہے تاہم آف گرڈ سولر سسٹمز لگانے والے صارفین کو بیٹریوں کی قیمت الگ سے ادا کرنا ہو گی جس سے مجموعی لاگت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کیلئے خصوصی سولر سکیم کی تیاری
صارفین اور سرمایہ کار اب سولر توانائی کی جانب بڑھتی ہوئی لاگت کو لے کر فکرمند ہیں کیونکہ حالیہ مہنگائی نے پہلے ہی توانائی کے متبادل ذرائع کی افادیت اور لاگت کے توازن کو متاثر کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ اضافہ عالمی مارکیٹ میں سولر پینلز اور سامان کی بڑھتی ہوئی لاگت کا رد عمل ہے جبکہ مقامی مارکیٹ میں ڈیمانڈ بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
صارفین اب حکومتی اداروں اور مارکیٹ ریگولیٹرز سے قیمتوں میں استحکام کے لیے اقدامات کی توقع رکھے ہوئے ہیں تاکہ سولر توانائی کی جانب دلچسپی میں کمی نہ آئے اور توانائی کے متبادل ذرائع کا فروغ جاری رہے۔